رسائی کے لنکس

بہت سے سیلاب زدہ علاقے امداد کے منتظرہیں: امریکی پاکستانی کا مشاہدہ

  • ندیم یعقوب

شکاگو میں پاکستانی امریکن کمیونٹی کے رہنمااورسرگرم سماجی کارکن ڈاکٹر مجاہد غازی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں عطیات اور امداد کی تقسیم کو شفاف بنانا بے حد اہم ہے۔

پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دو ہفتے کے دورے سے واپسی پر وائس آف امریکہ سے گفتگو کے دوران ڈاکٹر غازی نے کہا کہ سیلاب سے اس قدر وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے کہ بہت سے دور دراز علاقوں میں ابھی تک کوئی امداد نہیں پہنچ سکی۔

ان دوہفتوں کے دوران ڈاکٹر غازی نے بتایا کہ انہوں نے کئی دوسرے فلاحی اداروں کے ساتھ ملکر متاثرین کو امداد فراہم کی۔

مختلف علاقوں کے دورے کی تفصیلات بتاتے ہوئے فلاحی ادارے ایشئن براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے سربراہ نے کہا کہ متاثرین کو ابھی تک جس فوری امداد کی ضرورت ہے وہ خوراک اور رہائش ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ اب متاثرہ علاقوں میں گندے پانی کی وجہ سے طرح طرح کی بیماریاں پھوٹ رہی ہیں جس کے لئے طبی امداد ان تک پہنچانا بے حد ضروری ہے۔

ڈاکٹر غازی نے خدشے کا اظہار کیا کہ فیصلیں تباہ ہونے کی وجہ سے طویل المدتی بنیادوں پرپاکستان میں خوراک کی قلت پیدا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں اور ہاریوں کو بیج کی فراہمی بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہو نا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں ایسے پروجیکٹس تشکیل دینے کی ضرورت ہے جن سے لوگوں کو ان کے پاؤں پر کھڑا کیا جا سکے ۔

اپنے ذاتی مشاہدات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اندروں سندھ میں پورے گاؤں کے گاؤں سیلاب کی وجہ سے غائب ہو چکے ہیں اور ان دور دراز علاقوں میں ابھی تک نہ تو کسی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے کی طرف سے وہاں امداد پہنچائی گئی ہے۔

اسی طرح ایک اور مثال دیتے ہوئے انہوں کا بتایا کہ مظفرگڑھ کی تین تحصیلوں کے دورے کے دوران صرف ایک تحصیل میں انہیں پانچ گھروں کے بارے میں بتا یا گیا جو رینجرز نے متاثرین کے لئے بنائے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی قسم کی کوئی امداد ان علاقوں میں نہیں پہنچی۔

امریکہ میں سیلاب زدگان کے لئے عطیات جمع کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کئی تنظیمیں میڈیا کے ذریعے اعلان کراتی ہیں امدادی پیکٹ بنا کر پی آئی اے کے ذریعے پاکستان بھجوائے جائیں۔ مگر پاکستان میں ان کی شفاف طریقے سے تقسیم کا کوئی نظام موجود نہیں۔ اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر غازی نے بتایا کہا کہ ایک جگہ انہوں پینے کے پانی کی بوتل خریدی جو کہ اصل میں سیلاب سے متاثرین کے لئے بھیجی گئی اشیا کا حصہ تھی۔

اسی طرح انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم ہوا کہ کچھ عناصر متاثرین کے لئے بھیجی جانے والی اشیا کی ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں جنہیں بعد میں منافع کے لئے فروخت کیا جائےگا۔

ڈاکٹر غازی نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکومت کچھ علاقوں کو اس لئے بھی نظر انداز کر رہی کہ وہ حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کا گڑھ ہیں۔

پاکستان کے سرکاری حکام بار بار یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ حکومت پوری کوشش کر رہی ہے کہ متاثرین کے لیے دی جانے والی امداد براہ راست سیلاب زدگان تک پہنچے۔ ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے بیانات میں کہا گیا ہے کہ مختلف سرکاری ادارے جن میں پاکستان کی فوج بھی شامل ہے، پورے خلوص ، تندہی اور جذبے کے ساتھ تمام متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچانے میں مصروف ہیں۔

XS
SM
MD
LG