رسائی کے لنکس

بین الاقوامی امداد میں تاخیر کی وجہ ’’بے اعتباری’’ نہیں: کائرہ


سیلاب سے تباہ کاریوں کی تصویر جیسے جیسے صورتحال دنیا کے سامنے واضح ہورہی ہے، امریکہ، یورپ اور مسلم دنیا سے مثبت جواب مل رہا ہے، وائس آف امریکہ کے پروگرام ‘‘ان دا نیوز’’ میں گفتگو

پاکستان کے وفاقی وزیراطلاعات و نشریات قمر زماں کائرہ نے کہا ہے کہ سوا کروڑ سے زائد متاثرین سیلاب کی مدد کے لیے وفاقی اور صوبائی انتظامیہ فعال ہے ، تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا ئے جا رہے ہیں اور وزیراعظم کی ہدایت پر معاشی ترجیحات بھی نئے سرے سے ترتیب دی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ لوگوں تک رسائی ہے کیونکہ کئی ایک متاثرہ علاقوں تک زمینی راستے کٹے ہوئے ہیں کیونکہ مرکزی پل تباہ ہو چکے ہیں۔

وفاقی وزیر نے اس تنقید کو مسترد کیا کہ پاکستان کے دوست اور دیگر بیرونی ممالک اور ادارےپاکستان کی قیادت پر عدم اعتماد کی وجہ سے امداد دینے میں تذبذب کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی قیادت پر اعتبار نہ ہوتا تو صوبائی حکومتوں کو امداد پہنچا دی جاتی، غیر سرکاری اداروں کو دے دی جاتی، اعتبار کا مسئلہ ہرگز نہیں ہے۔ 2005ء میں زلزلے کے بعد فوری امداد اس لیے پہنچنا شروع ہو گئی تھی کیونکہ وہ تباہی پل بھر میں ہزاروں افراد کی ہلاکت کا سبب بنی تھی اور دنیا نے اس انسانی المیے کو وقت ضائع کیے بغیر سمجھا اور انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت ردعمل ظاہر کیا۔ جبکہ اب کی بار صورتحال آہستہ آہستہ واضح ہورہی ہے اور امریکہ، برطانیہ، ایران اور سعودی عرب سمیت بین الاقوامی برادری مدد کر رہی ہے۔

قمرزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں وسائل کی کمی ہمیشہ رہی ہے وہاں حکومتوں کو بند تعمیر کرنے اور ملک بھر میں نکاسی آب کا سوفیصد انتظام نہ کرنے کا الزام نہیں دیا جا سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی ریلیف کا کام ختم ہوگا اور سیلاب کا پانی ہٹے گا تو مجموعی نقصان کا تخمینہ لگایا جائے گا اور پھر فرینڈز آف پاکستان سے مدد اپیل کر جائے گی۔ فی الوقت ضروری ہے کہ عالمی برادری اقوام متحدہ کی اپیل کے تحت 459 ملین ڈالر فراہم کرے۔

وفاقی وزیر کے نقطہ نظر کے برعکس حکمران جماعت سے ہی تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی میر دوست محمد مزاری نے جن کا تعلق راجن پور سے ہے، وائس آف امریکہ سے گفتگو میں وفاقی حکومت کے اقدامات پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ معلوم نہیں حکومت کیا سوچ رہی ہے۔ اگر اس موقع پر اقدامات نہ کیے گئے توحالات مزید خراب ہو جائیں گے۔ پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی نے البتہ پنچاب کے وزیراعلی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دو مرتبہ راجن پور کے علاقے کا دورہ کیا ہے اور لوگوں کے مسائل جاننے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کالا باغ ڈیم سمیت کئی ایک چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کرنے کی ضرورت ہے ۔

امریکہ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ سینیٹر جان کیری کے مشیرشاہد احمد خان نے کہا کہ امریکہ کی قیادت اور عوام کو مشکلات میں گھرے پاکستانی عوام کا بھرپور احساس ہے۔ اسی لیے نہ صرف مالی امداد کی جا رہی ہے بلکہ مزید ہیلی کاپٹرز اور فوجی پاکستان بھجوائے جا رہے ہیں تاکہ متاثرین کے لیے امدادی کاموں میں حصہ لیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی دنیا کو بھی چاہیے کہ وہ پاکستان کا اس مشکل وقت میں ساتھ دیں۔ پروگرام میں شریک زرعی سائنسدان اور غیرسرکاری تنظیم گلوبل ڈیڈز کے سربراہ ڈاکٹر اشرف صاحبزادہ نے کہا کہ اگر ڈیمز موجود ہوتے تو تباہی اور ہلاکتوں کا سبب بننے والے پانی کو پاکستان کے لیے توانائی میں تبدیل کیا جاسکتا تھا۔

XS
SM
MD
LG