رسائی کے لنکس

سیلاب زدگان کی امداد کے لیے معاملات کو شفاف بنانا ہوگا

  • شہناز نفیس

پاکستان میں‘ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل’ کے سربراہ عادل گیلانی

پاکستان میں‘ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل’ کے سربراہ عادل گیلانی

پچھلے دِنوں پاکستانی وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران الزام لگایا تھا کہ غیر سرکاری تنظیمیں سیلاب زدگان کے لیے موصول ہونے والی عالمی امداد کا بیشتر حصہ اپنے انتظامی امور پر خرچ کریں گی اور اِس عمل کو مبینہ طور پر خرد برد سے تعبیر کیا گیا تھا۔

وزیرِ اعظم کے اِس بیان پر غیر سرکاری اداروں کے شدید ردِ عمل کے بعد معاملات کے شفاف ہونے کے حوالے سے ایک بحث چھِڑ گئی ہے۔

پاکستان میں‘ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل’ کے سربراہ سید عادل گیلانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کے دوران چند ایسی سفارشات کا ذکر کیا جِن پر، بقول اُن کے، اگر سرکاری اور غیر سرکاری ادارے عمل کریں گے تو شک نہیں کہ امداد مستحقین تک پہنچائی جاسکے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ اِس سلسلے میں 23ستمبر کو ایک ورکشاپ کا اہتمام بھی کیا گیا ہے جِس میں عالمی بینک اور ایشیائی بینک کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔

اپنے ادارے کی سفارشات کی کچھ تفصیل بتائے ہوئے عادل گیلانی نے کہا کہ اِن میں مقامی آبادی کے ساتھ مشورے اور اُن کی شراکت ویب سائٹ کے ذریعے شفاف اور مکمل مانیٹرنگ اور عطیات کے استعمال کے سلسلے میں شکایات کا طریقہٴ کار وضع کیا جانا شامل ہے۔

اُنھوں نے اِس جانب توجہ دلائی کہ جب تک نظام کو شفاف نہیں بنایا جائے گا حکومت اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوگی۔

اُنھوں نے کہا کہ سیلاب کے بعد لوگوں کا ردِ عمل ابھی سامنے آنا ہے اور اِس کے لیے ضروری ہے کہ معاملات کو شفاف بنایا جائے اور قانون کی حکمرانی قائم کی جائے۔

عادل گیلانی نے کہا کہ اگر بہتر طریقہٴ کار اپنایا جائے اور اِس پر عمل کیا جائے تو عطیہ دینے والے ممالک اور ادارے کھل کر امداد دیں گے۔

XS
SM
MD
LG