رسائی کے لنکس

امریکہ سیلاب متاثرین کی امداد میں اضافہ کرے گا

  • آمنہ خان

یوایس ایڈ کےسربراہ ڈاکٹر راجیوشانے کہا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے نہ صرف امریکہ کی جانب سے فوری امداد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ہم پاکستان کے ٕمختلف شعبوں کو دی گئی امداد کو بھی جاری رکھیں گے۔ زراعت کے شعبے پر خاص طور پر توجہ کی ضرورت ہو گی، اور ہمیں اس شعبے میں اپنی حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لینا ہو گا۔ اس جائزے میں پاکستانی حکام اور وہ غیر منافع بخش تنظیمیں بھی ہمارا ساتھ دے رہی ہیں جو ہمارے ساتھ اس شعبے میں پہلے سے شامل ہیں۔ لیکن پاکستان کی زرعی زمین کا 23 فی صد حصہ زیر آب ہے، بہر حال اس شعبے کی بحالی کے لیے کوئی ٹھوس حکمت عملی تشکیل دینا بہت ضروری ہو گا۔

اقوام متحدہ کے مطابق صرف صوبہ سندھ میں سیلاب کے باعث بے گھر ہونے والوں کی تعداد تقریبا10 لاکھ ہے۔ سیلاب زدگان کی امداد کرنے والے ممالک میں اس وقت امریکہ سرفہرست ہے۔ امریکی امدادی ادارے یوایس ایڈ کے سربراہ راجیوشانےسیلاب سےمتاثرہ افراد کے مسائل اور ان کےلیئے ضروری امداد کاجائزہ لینےکے لیے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا۔ جس کی تفصیلات انہوں نے واشنگٹن میں نامہ نگاروں کو دیں اور اس موقعے پر پاکستان کے لیئے امریکی امداد کے حوالے سے بھی بات کی۔

اقوام متحدہ کے عہدے داروں کوتشویش ہے کہ صوبہ سندھ میں سیلاب کی وجہ سے سیلاب زدگان تک خوراک، پانی اور طبی امداد کی فراہمی میٕں مزیدمشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اسی تشویش کا اظہار امریکی عہدے داروں نے بھی کیا ہے۔ حال ہی میں پاکستان کا دورہ کرنے کے بعد یوایس ایڈ کے ایک سربراہ ڈاکٹر راجیوشانے پاکستان کو اس مشکل وقت میں امداد فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان میں طویل المعیاد شراکت داری جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے نہ صرف امریکہ کی جانب سے فوری امداد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ہم پاکستان کے ٕمختلف شعبوں کو دی گئی امداد کو بھی جاری رکھیں گے۔ زراعت کے شعبے پر خاص طور پر توجہ کی ضرورت ہو گی، اور ہمیں اس شعبے میں اپنی حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لینا ہو گا۔ اس جائزے میں پاکستانی حکام اور وہ غیر منافع بخش تنظیمیں بھی ہمارا ساتھ دے رہی ہیں جو ہمارے ساتھ اس شعبے میں پہلے سے شامل ہیں۔ لیکن پاکستان کی زرعی زمین کا 23 فی صد حصہ زیر آب ہے، بہر حال اس شعبے کی بحالی کے لیے کوئی ٹھوس حکمت عملی تشکیل دینا بہت ضروری ہو گا۔

ڈاکٹر راجیو شا نے سیلاب زدگان تک امداد پہنچانے کے سلسلے میں حکومت پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کی کوششوں کو سراہا لیکن انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو تعمیر نو کےمر حلے میں عالمی برادری اور پاکستانی عوام سے مزید امداد حاصل کرنے کے لیے جوابدہی اور شفافیت کی بنیاد ڈالنی ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عہدے دار وں نےیہ نظام قائم کرنےکا وعدہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکام کے ساتھ میری گفتگو میں یہ موضوع سر فہرست تھا۔ انہوں نے پاکستان کے لیے شفافیت اور جوابدہی کا نظام قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ جیسے جیسے وہ اس نظام کی حکمت عملی پر غور کریں گے، آئندہ دنوں میں اس کے بارے میں مزید تفصیلات بھی ہمیں معلوم ہوتی رہیں گی۔

پاکستان کے سیلاب زدگان تک بروقت امداد پہنچانے کے لیے یوایس ایڈپاکستان کی مقامی غیر منافع بخش تیظیموں کے ساتھ بھی کام کر رہا ہے۔ ڈاکٹر شا نے کہا کہ سیلاب متاثرین تک امداد پہنچانے کے سلسلے میں نہ صرف بین الاقوامی کمیونٹی بلکہ پاکستانی ادارے بھی مزید اقدامات کر سکتے ہیں

انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں ہمیں بین الاقوامی این جی اوز کی موجودگی بڑھانی ہو گی تاکہ انسان دوست بنیاد پر مزید اقدامات کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ ہمیں پاکستان میں اپنے تمام ساتھیوں کو بھی مزید اقدامات کرنے کا مشورہ دینا ہو گا۔

یوایس ایڈ کے منتظم اعلی ڈاکٹر راجیو شا نے امید ظاہر کی کہ سیلاب متاثرین کی امداد کےلیے حکومت پاکستان اور امریکی حکومت نے مشترکہ طور پر جس نظام کی بنیاد ڈالی ہے، وہ سیلاب کے بعد بھی پاکستان میں تعمیر نو اور مختلف شعبوں کی بحالی میں کارآمد ثابت ہو گا۔

XS
SM
MD
LG