رسائی کے لنکس

سیلاب سے پاکستان کی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان

  • یاسر منصوری

وزیراعظم گیلانی وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

وزیراعظم گیلانی وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

وزیراعظم گیلانی کا کہنا ہے کہ ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب سے ملک بھر میں آبپاشی کا نظام، مال مویشیوں اور زراعت کا بیس فیصد حصہ متاثر ہوا ہے۔ ان غیر معمولی نقصانات کی وجہ سے دو سال تک زرعی شعبے کی کارکردگی کمتر رہنے کا امکان ہے جس کے براہ راست اثرات پیداوار، بنیادی سہولیات اور برآمدات پر پڑیں گے۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بدھ کے روز وفاقی کابینہ کو بتایا ہے کہ ایک ماہ سے جاری تباہ کن سیلاب سے ملکی معیشت کو مجموعی طور پر تینتالیس ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے جب کہ ملک میں کل زرعی رقبے کا تیس فیصد حصہ اس قدرتی آفت سے متاثر ہوا ہے۔

دارالحکومت اسلام آباد میں کابینہ کے اجلاس کی سربراہی کرتے ہوئے وزیراعظم نے خدشہ ظاہر کیا کہ معیشت کو اس وسیع پیمانے پر ہوئے نقصان کے باعث بے روزگاری اور افراط زر کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

اْن کا کہنا تھا کہ ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب سے ملک بھر میں آبپاشی کا نظام، مال مویشیوں اور زراعت کا بیس فیصد حصہ متاثر ہوا ہے۔ ان غیر معمولی نقصانات کی وجہ سے دو سال تک زرعی شعبے کی کارکردگی کمتر رہنے کا امکان ہے جس کے براہ راست اثرات پیداوار، بنیادی سہولیات اور برآمدات پر پڑیں گے۔

زرعی پیداوار میں کمی کے باعث ملک میں غذائی عدم تحفظ کی صورتحال مزید بگڑ نے کا خطرہ ہے۔ان خدشات کی تائید عالمی ادارہ خوراک وزراعت ایف اے او نے بھی کی ہے، جس کا کہنا ہے کہ گندم کے بیج کے ذخائر میں کمی اور سیلاب زدہ زمین کو دوبارہ کاشت کے قابل بنانے میں تاخیر سے لاکھوں افراد کو خوراک کی کمی کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

ایف اے او کے عہدیدار ڈینیئل ڈوناٹی (Daniele Donati)نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ کاشت کاروں کو آئندہ چند ہفتوں میں گندم کے بیج کی فراہمی لازمی بنانا ہو گی کیوں کہ فصل کی کاشت نومبر کے وسط تک مکمل کر لی جانی چاہیئے۔

سیلاب سے پاکستان کی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان

سیلاب سے پاکستان کی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان

سیلاب سے چاروں صوبوں سمیت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اورگلگت بلتستان میں کل 79 اضلاع متاثر ہوئے ہیں جب کہ جن شعبوں میں زیادہ نقصان ہوا ہے ان میں زراعت، مواصلات اور بنیادی ڈھانچہ شامل ہیں۔سیلاب سے بارہ لاکھ سے زائد مکانات ، لگ بھگ دس ہزار اسکولوں اور تقریباً پانچ سو طبی مراکز کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

وزیر اعظم گیلانی نے وفاقی کابینہ کو باضابطہ طور پر بتایا کہ سیلاب زدگان کی امداد کا عمل ،جو پہلے اکتوبر کے آخر تک جاری رہنا تھا، اس کو چھ ماہ تک توسیع دے دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان میں اقتصادی امور کی ڈویژن کے تعاون سے تیس ستمبر تک نقصانات اور ان سے نمٹنے کے لیے درکار وسائل کا اندازہ لگائیں گے جس کے بعد حکومت اکتوبر کے آخر یا نومبر میں عطیہ دینے والے ممالک کی کانفرنس کا انعقاد کرے گی۔

انھوں نے بحالی اور تعمیر نو کے عمل کے لیے وسائل کی دستیابی کے لیے سرکاری اور انفرادی سطح پر اخراجات میں کمی پر زور دیا جب کہ ان کا کہنا تھا کہ بعض ترقیاتی منصوبوں کو بھی منسوخ کرکے ان کے لیے مختص کی گئی رقوم کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے میں استعمال کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان نے مشکلات کا شکار معیشت میں بہتری لانے کے لیے 2008ء میں عالمی مالیاتی فنڈ سے ساڑھے دس ارب ڈالر سے زائد کا قرضہ لیاتھا اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد حکومت نے فنڈ کے حکام سے اس قرضے کی شرائط نرم کرنے پر مذاکرات بھی کیے ہیں۔

XS
SM
MD
LG