رسائی کے لنکس

ملیریا کے مریضوں میں اضافہ، اقوام متحدہ کی تشویش

  • یاسر منصوری

ملیریا کے مریضوں میں اضافہ، اقوام متحدہ کی تشویش

ملیریا کے مریضوں میں اضافہ، اقوام متحدہ کی تشویش

اس سے قبل بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم’ مرلن‘ بھی متنبہ کر چکی ہے کہ رواں سال کے بقیہ دنوں کے دوران بیس لاکھ افراد کے ملیریا سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ مرلن کے مطابق پاکستان میں گذشتہ ایک برس میں اتنے لوگ ملیریا کا شکار نہیں ہوئے جتنے آنے والے چار مہینوں میں ہوسکتے ہیں۔

اقوام متحدہ نے پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں آئندہ ہفتوں کے دوران ملیریا پھیلنے کے خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی تنظیم مقامی حکومت اور اداروں کے ساتھ مل کر اس صورت حال سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔

عالمی تنظیم کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اگست اور اکتوبر کے مہینوں میں ملیریا کی شرح بلند ترین سطح پر ہوتی ہے اور اس مرض میں مبتلا افراد کی ہلاکت کے امکانات میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

اُن کے مطابق جولائی میں شروع ہونے والے سیلاب سے اب تک متاثرہ علاقوں میں ملیریا کے تقریباً تین لاکھ واقعات سامنے آچکے ہیں اور خدشہ ہے کہ آئندہ چھ ماہ میں یہ تعداد بائیس لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

صحت سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے ڈبلیو ایچ او کی ترجمان گل آفریدی نے منگل کو دارالحکومت اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ستمبر کے آخر میں ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب میں ممکنہ طور پر ملیریا کے مریضوں کی تعداد میں واضح اضافہ ہوا اور زیادہ تر کیسز کی نشاندہی ضلع مظفر گڑھ اور ملتان کے علاقوں میں ہوئی ہے۔

گل آفریدی

گل آفریدی

انھوں نے بتایا کہ ان کا ادارہ ہر ایسے علاقے میں طبی ماہرین تعینات کر رہا ہے جہاں ملیریا پھوٹنے کا خطرہ ہے جب کہ احتیاطی اقدامات کے طور پر متاثرین سیلاب میں ادویات کے علاوہ مچھر دانیاں بھی تقسیم کی جا رہی ہیں۔ سیلاب زدگان میں آلودہ پانی کے استعمال سے پھیلنے والی بیماریاں اور امراض تنفس اور جلد بھی عام ہیں۔

اس سے قبل بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم’ مرلن‘ بھی متنبہ کر چکی ہے کہ رواں سال کے بقیہ دنوں کے دوران بیس لاکھ افراد کے ملیریا سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ مرلن کے مطابق پاکستان میں گذشتہ ایک برس میں اتنے لوگ ملیریا کا شکار نہیں ہوئے جتنے آنے والے چار مہینوں میں ہوسکتے ہیں۔

ملکی تاریخ کے بد ترین سیلابوں سے لگ بھگ دو کروڑ افراد متاثر ہوئے اور اقوام متحدہ کے مطابق اب بھی تقریباً ایک کروڑ چالیس لاکھ افراد کو ہنگامی امداد کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا بیس فیصد علاقہ اس قدرتی آفت کی زد میں آیا جس سے 1750 سے زیادہ افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی بھی ہوئے۔

اقوام متحدہ نے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے دو ارب ڈالر کی عالمی اپیل کر رکھی ہے۔ البتہ تاحال اس رقم کا صرف 33 فیصد حصہ موصول ہو سکاہے۔ پاکستان کی امداد کرنے والے ملکوں میں امریکہ سر فہرست ہے، جس نے 30 کروڑ ڈالر کی امداد کے علاوہ پاکستانی حکومت کی معاونت کے لیے ہیلی کاپٹر اور ماہرین کی خدمات بھی پیش کی ہیں۔

XS
SM
MD
LG