رسائی کے لنکس

پاکستان ، سیلاب کے ساتھ نئے چیلنجزکا سامنا


پاکستان ، سیلاب کے ساتھ نئے چیلنجزکا سامنا

پاکستان ، سیلاب کے ساتھ نئے چیلنجزکا سامنا

پاکستان میں تاریخ کے بدترین سیلاب سے اب تک دوہزار سے زائد افرادلقمہ اجل بن چکے ہیں ،کروڑوں لوگ بے گھر اور اربوں روپے کی کھڑی فصلیں اور املاک تباہ ہو گئی ہیں۔ خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں تباہ کاریوں کے بعداب یہ سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں نئی زندگیوں کی بھینٹ لے رہا ہے۔تاہم اس تمام تر صورتحال میں عالمی برادری کا مثبت رد عمل سامنے آ رہا ہے اور سیلاب زدگان کی امداد کے لئے اقوام متحدہ نے انیس اگست اور یورپی یونین نے گیارہ ستمبر کو رکن ممالک کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے تاہم ،مبصرین اور اطلاعات کے مطابق، اس کے ساتھ ساتھ اقوام عالم کو حکومت پاکستان سے کچھ تحفظات بھی ہیں ۔

فلڈ سرچارج یا آفت زدگی ٹیکس کے نفاذ کا چیلنج

پاکستان کو، جسے پہلے ہی معاشی بحران کے علاوہ دہشت گردی ،مہنگائی ، بے روزگاری اور دیگر بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے، وہ سیلاب جیسی سنگین قدرتی آفت سے تن تنہا نہیں نکل سکتا۔ سیلاب سے ہونے والے نقصان کا صحیح اندازہ تو آئندہ ماہ عالمی بینک اور ایشیائی بینک کی جائزہ رپورٹ کے بعد ہی ہو سکے گا تاہم صورتحال کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ایف بی آر کو ٹیکسوں کی آمدنی میں سو سے اسی ارب روپے کا نقصان ہو سکتا ہے جسے پورا کرنے کیلئے اسے فلڈ سرچارج یا آفت زدگی ٹیکس کے نام پر اضافی وسائل صنعتی اور تجارتی شعبہ سے حاصل کرنے ہوں گے جو پہلے ہی توانائی کے بحران اور دیگر مسائل کا شکار ہے ۔

ہر دسواں پاکستانی سیلاب سے متاثر

عالمی برادری کی جانب سے پاکستان کی مدد سست روی کا شکار ہے اور جس تیزی سے دو ہزار پانچ کے زلزلہ زدگان کی مدد کی گئی تھی اس تیزی سے سیلاب زدگان کی مدد نہیں کی جا رہی ہے ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سیلاب کے متاثرین کی ممکنہ تعداد دوکروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ گویا تقریباً ہردسواں پاکستانی براہ راست یا بالواسطہ طور پر سیلاب سے متاثر ہوا ہے۔

ساڑھے چار سو ارب ڈالر کی ضرورت

ماہرین کے مطابق سیلاب زدگان کے لئے تقریبا ساڑھے چار سو ارب ڈالرز کی فوری ضرورت ہے تاہم ابھی تک عالمی برادری سے صرف آٹھ کروڑ ڈالر کی امداد حاصل ہو ئی ہے جس میں امریکا کی جانب سے ساڑھے پانچ کروڑ ڈالرکے اعلان کے بعد ایک کروڑ ڈالر دیئے گئے ہیں جن میں سعودی ارب کے چار کروڑ چالیس لاکھ ڈالر، اقوام متحدہ کے ایک کروڑ اسی لاکھ ڈالر ، ترکی کے پچاس لاکھ اور جاپان کے تیس لاکھ ڈالرشامل ہیں جبکہ اب تک برطانیہ نے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر، آئی ڈی پی نے ایک کروڑدس لاکھ، یورپی یونین نے ایک کروڑ ،آسٹریلیا نے تین کروڑ تیس لاکھ،جاپان نے ایک کروڑ ڈالر،کویت اور ناروے نے ، پچاس ، پچاس لاکھ ڈالرکی امداد کا اعلان کیا ہے تاہم ابھی تک ان ممالک سے امداد نہیں ملی ۔

خراب ساکھ اور نہایت کم سرمایہ کاری

اس کی ایک وجہ جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے آفس کی ترجمان ایلزبتھ بائرز نے بتاتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی خراب ساکھ کے باعث سیلاب زدگان کی امداد کیلئے ریلیف پہنچانے والی ایجنسیوں کو فنڈز کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے، مبصرین نے اکثر یہ بات نوٹ کی ہے کہ مغربی رائے عامہ میں پاکستان کی ساکھ خراب ہے جس کے نتیجے میں پاکستان یمن کی طرح ان ممالک میں شامل ہے جن میں سرمایہ کاری بہت کم کی جاتی ہے۔

متاثرین تک امداد کی شفاف ترسیل

مبصرین کہتے ہیں کہ عالمی برادری چاہتی ہے کہ جو امداد وہ سیلاب زدگان کے لئے دے رہی ہے وہ شفاف طریقے سے ان تک پہنچے اورکسی شک و شبہ کی گنجائش نہ ہو۔ لہذا اقوام متحدہ کے اجلاس سے قبل ، وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور میاں محمد نوازشریف کے درمیان جس متفقہ کمیشن کے قیام کا فیصلہ ہوا اسے عملی جامہ پہنانا ہو گا اور ایک ایسا کمیشن تشکیل دینا ہو گا جو ایک پلان تیار کر سکے جس میں بیرونی امداد مستحقین تک پہنچانے کا لائحہ عمل پوری طرح واضح ہو ۔ کمیشن میں ایک کمیٹی بنائی جائے جو ترجیحات طے کرے اور اقوام عالم کو بتایا جائے کہ سب سے پہلے امدادکو کس مقصد کے لئے استعمال کیا جائے گا ۔

ساٹھ لاکھ افرادکو بیماریوں سے بچانا

اقوام متحد کی رپورٹ کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں مختلف قسم کی بیماریاں پھیل رہی ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ صاف پانی کی عدم فراہمی ہے اور تقریباً 35 لاکھ بچوں کی زندگیوں کو سنگین خطرات لائق ہیں ۔ اس کے علاوہ ہیضہ، ٹائیفائڈ، ہیپاٹائٹس اے اور بی اور اسہال سمیت دیگر بیماریوں سے تقریباً 60 لاکھ افراد مر سکتے ہیں ۔ مبصرین کہتے ہیں کہ ایسے اقدامات کرنے ہوں گے کہ امداد سے متعلق پوری معلومات میڈیا تک پہنچائی جائیں اور امداد کے استعمال کی معلومات تک عالمی برادری سمیت عام آدمی کی رسائی بھی ممکن ہو ۔

بیرون ملک پاکستانیوں کا بحالی اعتماد

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت کو بیرون ملک پاکستانیوں کا اعتماد بھی بحال کرنا ہو گا کیونکہ انہیں شکایت ہے کہ سال2005 ء کے زلزلہ زدگان کے لئے جس طرح امداد بھیجی گئی اس کا صحیح طریقے سے استعمال نہیں کیا گیا ۔ لہذا حکومت کو چاہیے کہ فی الفور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو متحرک کرے جو دنیا کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے آگاہ کر سکیں اور زیادہ سے زیادہ فنڈز حاصل کیے جا سکیں ۔

سب سے بڑا چیلنج

سیلاب کے بعد چاروں صوبوں کی تعمیر نو، لاکھوں متاثرین کے ان کے اپنے اپنے علاقوں میں دوبارہ آباد کاری اور تباہ شدہ اسٹرکچر کی تعمیر نو حکومت اور عوام کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ جس کی تکمیل کے لئے کئی سال کا وقت درکار ہوگا۔ موجودہ حکومت کے ساتھ ساتھ ہوسکتا ہے مستقبل میں آنے والی حکومتوں کو بھی اس چیلنج سے نمٹنا پڑے کیوں کہ ابھی 2005ء کے زلزلہ متاثرین کی بحالی جاری ہی ہے کہ اب سیلاب کے بعد تعمیر نو کا ایک نیا سفر طے کرنا ہوگا۔

XS
SM
MD
LG