رسائی کے لنکس

حکومت سیلاب متاثرین کی مکمل بحالی کا عزم رکھتی ہے

  • حسن سید

حکومت سیلاب متاثرین کی مکمل بحالی کا عزم رکھتی ہے

حکومت سیلاب متاثرین کی مکمل بحالی کا عزم رکھتی ہے

وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے حکومت کے اس عزم کو دہرایا ہے کہ سیلاب زدگان کی امداد اور مکمل بحالی کے لیے تمام ممکن اقدامات جا ری رہیں گے ان میں متاثرین کے لیے حاصل ہونے والی بیرونی امداد کی شفاف اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے گا ۔

وزیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ

وزیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ

جمعہ کو اسلام آباد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ سیلاب میں متاثر ہونے والے کل 16 لاکھ خاندانوں میں سے ہر خاندان کو ایک ایک لاکھ روپے دیے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنے گھر دوبارہ تعمیر کر سکیں اور تمام بنیادی سہولتوں کے ساتھ ایک نئی زندگی کا آغاز کر سکیں۔حفیظ شیخ کے مطابق اس پروگرام کے لیے 160 ارب روپے کی رقم درکار ہوگی۔

ان کاکہنا تھا کہ آئندہ موسم کی فصل کے لیے حکومت 25ایکڑ تک زمین رکھنے والے چھوٹے زمینداروں کو کھاد اور بیج مفت فراہم کرنے کے لیے گرانٹ دے گی جبکہ فصلوں کی کاشت کے لیے کسانوں کو نرم قرضے بھی دیے جا رہے ہیں۔’’اس وقت قرضے پر شرح سود ساڑھے تیرہ فیصد ہے جو ان کے لیے آٹھ فیصد ہو گی جبکہ باقی کا آٹھھ فیصد سبسڈی کی مد میں حکومت خود ادا کرے گی‘‘۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں آئندہ ایک سال تک اقوام متحدہ اور مقامی اداروں کی طرف سے امدادی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی ۔

حکومت کی طرف سے کسانوں کو جو پیکج دیا جا رہا ہے اسے پاکستان کسان اتحاد نے حال ہی میں ناکامی قراردیتے ہوئے اس پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ صرف کھاد اور بیچ مفت فراہم کر دینا ہی کافی نہیں کیوں کہ تنظیم کے مطابق سیلاب میں تباہ ہونے والے کل رقبے کا پچاس فیصد سے زیادہ اس وقت بھی قابل کاشت نہیں ہے۔

کسانوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت ان کے ذمے واجب الاادا قرضے معاف کرنے کے علاوہ سیلاب کے بعد زمین کی حد بندی کے سلسلے میں پیدا ہونے والے تنازعات کے حل اور تباہ شدہ مویشیوں اور پولٹری کے نقصانات کو پورا کرنے میں بھی مدد دے تاکہ یہ غلہ اگا کر متاثرہ علاقوں میں خوراک کی قلت کو پورا کر سکیں جو مقامی اورغیر ملکی امدادی اداروں کے لیے گہری تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔

پاکستان کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے میں جہاں بیرونی امداد مل رہی ہے وہیں عالمی برادری خاص طور پر امریکہ کی طرف سے یہ دباؤ بھی ہے کہ ملک اپنے ہاں ٹیکس نیٹ ورک کو وسیع کرے تاکہ متاثرین کے لیے مقامی طورپر زیادہ سے زیادہ رقم اور وسائل اکھٹے ہوسکیں۔

وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے صحافیوں کو بتایا کہ اصلاحاتی سیلز ٹیکس یعنی ریفارمنڈ جی ایس ٹی کے مسودے پر کام ہو رہا ہے جسے عنقریب پارلیمان میں منظوری کے لیے پیش کر دیا جائے گا۔

وزیر خزانہ کے مطابق اس مجوزہ ٹیکس کا ایک بنیادی مقصد ان شعبوں اور گروپوں کو ٹیکس کے دائرے میں لانا ہے جو اب تک اس سے مستثنیٰ رہے اور ایسی طاقتور لابی سے نمٹنا ہے جو اب تک ٹیکس دینے کی مزاحمت کرتی آئی ہے۔

XS
SM
MD
LG