رسائی کے لنکس

سیلاب زدگان کے لیے اہم امدادی منصوبوں کی بندش کا خطرہ

  • یاسر منصوری

سیلاب زدگان کے لیے اہم امدادی منصوبوں کی بندش کا خطرہ

سیلاب زدگان کے لیے اہم امدادی منصوبوں کی بندش کا خطرہ

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق عالمی تنظیم کو دی جانے والی امداد میں کمی نے سیلاب زدگان کے لیے جاری متعدد اہم منصوبوں کو بُری طرح متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

جمعہ کو پاکستان میں یونیسیف کی ایک اعلیٰ عہدیدار کریسٹن ایلسبی نے وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ اگر صورتحال میں بہتری کے لیے فوری اقدامات نا کیے گئے تو یونیسیف نا صرف اپنی سرگرمیاں محدود کرنے پر مجبور ہو جائے گا بلکہ مالی وسائل نا ہونے کی وجہ سے متعدد منصوبوں کو بند بھی کرنا پڑے گا۔

یونیسیف نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خاص طور پر بچوں کو وبائی اور دوسرے امراض سے محفوظ رکھنے کے لیے مختلف منصوبے شروع کر رکھے ہیں جن میں صاف پانی ، حفظانِ صحت اور خوراک کی فراہمی شامل ہے۔

کریسٹن ایلسبی کا کہنا تھا کہ عالمی ادارے نے اس وقت ملک میں بچوں کو خسرہ کی بیماری سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک بڑی مہم شروع کر رکھی ہے جس کا ہدف دو کروڑ ساٹھ لاکھ بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانا ہے۔ اب تک 79 لاکھ بچوں کو یہ ٹیکے لگائے جا چکے ہیں لیکن اگر یونیسیف کو اضافی امداد فراہم نا کی گئی تو ایک کروڑ سے زائد بچے اِن سے محروم ہو جائیں گے ۔

مزید براں اُنھوں نے بتایا کہ امداد نا ملنے سے جن دوسرے منصوبوں کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے اُن میں سات لاکھ بچوں سمیت 14 لاکھ افراد کو صاف پانی کی فراہمی اور صوبہ سندھ میں امدای کارروائیوں کے لیے قائم ہنگامی مراکز کے منصوبے شامل ہیں۔

یونیسیف نے عالمی سطح پر لگ بھگ 25 کروڑ ڈالر کی اپیل کر رکھی ہے لیکن تین ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود ادارے کو اس رقم کا تقریباً 53 فیصد حصہ موصول ہو سکا ہے۔

اُدھر اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں تباہ کن سیلاب کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کسی صورت بھی ختم نہیں ہوئی اور متاثرین کی امداد کے علاوہ تعمیر نو میں اِن کے معاونت کے سلسلے میں اقوام عالم کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہوگا۔

جولائی کے اواخر میں موسلادھار بارشوں کے بعد ملک کے شمال مغربی حصے سب سے پہلے سیلاب کی زد میں آئے اور آنے والے دنوں میں دیگر تین صوبوں میں درجنوں اضلاع بھی اس سے متاثر ہوئے۔

اس تباہی کے ایک سو روز مکمل ہونے پر عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کی طرف سے امداد کی فراہمی میں سست روی کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے مجموعی طور پر سیلاب زدگان کے لیے دو ارب ڈالر سے زائد کی اپیل کر رکھی ہے لیکن تاحال اِس کو صرف 40 فیصد رقم فراہم کی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG