رسائی کے لنکس

سیلاب زدگا ن کی گھروں کو واپسی شروع

  • افضل منصوری

سیلاب زدگا ن کی گھروں کو واپسی شروع

سیلاب زدگا ن کی گھروں کو واپسی شروع

محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز کے دوران بارشیں نہ ہونے کی پیش گوئی کی ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ معمول پر آنے میں تقریباً دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔ دریا میں ان دونوں سیلاب کی صورتحال ہے اور کئی مقامات پر پشتے ٹوٹنے سے صوبہ پنجاب اور سندھ کے ہزاروں دیہات اور متعدد شہر زیر آب آچکے ہیں۔

پاکستان میں ایک ماہ سے جاری سیلاب کی غیر معمولی تباہ کاریوں میں آخر کار بہتری کے آثار نمودار ہونا شروع ہو ئے ہیں اور صوبہ پنجاب کے جنوبی اضلاع مظفر گڑھ اور ڈیر ہ غازی خان میں سیلابی پانی اترنے کے بعد عارضی کیمپوں میں مقیم خاندانوں نے اپنے گھروں کو واپس جانا شروع کردیا ہے۔

مظفر گڑھ کے ضلعی رابطہ افسر فراست اقبال نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ کوٹ ادو سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے والے افراد میں سے تقریباً 35 فیصداپنے علاقوں کو لوٹ چکے ہیں اور توقع ہے کہ یہاں تمام سیلاب زدگان کی واپسی آئندہ دس سے 12 روز کے دوران مکمل ہو جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ واپس لوٹنے والے متاثرین کو خیمے اور راشن فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ وہ ابتدائی طور پر حالات کا سامنا کر سکیں جب کہ واپسی کے اس عمل کے باعث سیلاب سے بے گھر ہونے والے افراد کے لیے تحصیل میں قائم کم از کم دو کیمپ بھی بند کر دیے گئے ہیں۔

ضلعی رابطہ افسر نے اس تاثر کو رد کیا ہے کہ متاثرین میں بعض اپنے گھروں کو واپس جانے سے گریزاں ہیں کیوں کہ انہیں وہاں اس پیمانے پر امداد موصول نہیں ہو گی جس قدر عارضی پناہ گاہوں میں فراہم کی جار ہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ مظفر گڑھ کے متعدد جنوبی حصے تاحال زیر آب ہیں اور یہاں سے پانی رسنے میں ایک ہفتے سے زائد عرصہ لگ سکتا ہے۔

انتظامیہ کو درپیش مسائل کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں فراست اقبال نے کہا کہ کچھ دیہاتوں میں لوگوں نے انتباہ کے باوجود نسبتاً اونچے علاقوں کا رخ نہیں کیا اور اب وہ سیلابی پانی میں گھِر گئے ہیں اور حکومت سمیت امدادی سرگرمیوں میں شامل دوسرے اداروں کو ا نھیں کشتیوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے راشن اور دیگر امداد فراہم کرنا پڑ رہی ہے جو ایک مشکل عمل ہے۔

ڈیرہ غازی خان کے کمشنر حسن اقبال نے بھی وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ20 فیصد سیلاب زدگان گھروں کو واپس چلے گئے ہیں اور جوں جوں سیلابی پانی اتر رہا ہے توقع ہے کہ آئندہ پندرہ روز میں باقی بھی اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے۔ انھوں نے متاثرین پر زور دیا کہ اُن کی گھروں کو جلد واپسی سے حکومت کو بھی اس سروے کو جلد مکمل کرنے میں آسانی ہوگی جس کا مقصد لوگوں کو سیلاب سے ہونے والے مالی نقصانات کا اندازہ لگا کر انھیں معاوضے دینا ہے۔


محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز کے دوران بارشیں نہ ہونے کی پیش گوئی کی ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ معمول پر آنے میں تقریباً دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔ دریا میں ان دونوں سیلاب کی صورتحال ہے اور کئی مقامات پر پشتے ٹوٹنے سے صوبہ پنجاب اور سندھ کے ہزاروں دیہات اور متعدد شہر زیر آب آچکے ہیں۔

اس وقت سب سے زیادہ خطرہ سجاول تحصیل کو ہے جہاں سوجانی بند میں شگاف کے بعد سیلابی پانی تیزی سے اس علاقے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق ٹھٹھہ شہر کے زیر آب آنے کے خدشات بدستور موجود ہیں تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کے بھی امکانات ہیں کہ ریلا آس پاس کے علاقوں سے ہوتا ہوا سیدھا سمندر میں داخل ہو جائے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سجاول تحصیل میں قومی شاہ راہ کا 15 کلومیٹر کا حصہ زیر آب آ گیا ہے جس کے باعث اس علاقے کا ٹھٹھہ سے مرکزی زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب سے 16سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ اس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد دو کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ اُدھر اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ آٹھ لاکھ افراد کو ہنگامی امداد کی اشد ضرورت ہے اور اگر یہ انہیں نہ فراہم کی جا سکی تو ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG