رسائی کے لنکس

سیلاب کی تباہ کاریاں، درجنوں افغان پناہ گزین لاپتا


پاکستان میں مقیم ایک افغان مہاجر، سیلاب کی وجہ سے، اپنے تباہ شدہ گھر کے سامنے بیٹھا ہوا ہے

پاکستان میں مقیم ایک افغان مہاجر، سیلاب کی وجہ سے، اپنے تباہ شدہ گھر کے سامنے بیٹھا ہوا ہے

پاکستان میں آنے والے سیلاب نے جہاں ملکی شہریوں کے لئے مسائل کھڑے کئے ہوئے ہیں، وہیں پاکستان میں موجود افغان پناہ گزین بھی ان سے بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ افغان پناہ گزینوں کے لئے امدادی کام کرنے والے اہل کاروں اور حکام کے مطابق دو ہفتے پہلے آنے والے سیلاب سے درجنوں افغان پناہ گزین یا تو لاپتا ہوچکےہیں یا وہ اپنے گھر بار سے محروم ہوگئے ہیں۔
خیبر پختون خواہ پاکستان کا وہ صوبہ ہے جہاں دس لاکھ سے زیاہ افغان پناہ گزین رہتے ہیں۔حالیہ سیلاب نے ان پناہ گزینوں کو بری طرح جھنجھوڑ دیا ہے۔ ایک طرف تو غربت نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا تو دوسری جانب سیلاب کےباعث درجنوں خاندان بے آسرا ہوگئے ہیں اور ان کے پاس سر چھپانے کی بھی جگہ نہیں۔
خیبر پختون خواہ میں موجود افغان پناہ گزینوں کے امور کی نگرانی کرنے والے پاکستانی افسر جمال الدین شاہ کے مطابق پناہ گزینوں کے دو کیمپ، جن میں پانچ ہزار سے زیادہ خاندان مقیم تھے، سیلاب میں بہہ گئے ہیں۔ مجبوراً ان کیمپوں میں رہنے والے افراد کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
پورے صوبے میں پناہ گزینوں کے مجموعی طور پر 29 کیمپ ہیں۔ ان میں سےتقریباً ب20 کیمپ سیلاب کی وجہ سے اجڑگئے ہیں۔ کچھ خاندانوں نے اسکولوں اور آس پاس کی عمارتوں میں پناہ لے لی ہے مگر وہ جانتے ہیں کہ یہ ان کاعارضی ٹھکانہ ہے۔
ایک حکومتی اہلکار کا کہنا ہے کہ سیلاب میں ہلاک ہونے والے افغان پناہ گزینوں کی صحیح تعداد کے بارے میں کسی کو بھی کچھ پتا نہیں۔درجنوں افراد ایسے ہیں جو سیلاب آنے کے بعد سے اب تک لاپتا ہیں۔
حالیہ سیلاب پاکستان کی تاریخ کا بدترین سیلاب ہے جس سے 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ بڑے پیمانے پر ہونے والا جانی نقصان تو ایک طرف، لیکن جو لوگ موت کے منہ میں جانے سے بچ گئے ہیں، ان کے پاس دو وقت کی روٹی کا بھی کوئی آسرا نہیں۔ غذائی اجناس کی قلت ہے۔
زندہ بچ جانے والے افراد میں مایوسی کا شکار ہیں۔ آزرخیل کیمپ میں رہائش پذیر ایک پناہ گزین کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں، رہنے کا بھی کوئی ٹھکانہ نہیں اور دکھ تو اس بات کا ہے کہ یہ حالات کب تک چلیں گے اس کا بھی کچھ پتا نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ صوبے میں سینکڑوں مکانات سیلاب سے تباہ و برباد ہوگئےہیں۔ کیمپ میں ہی مقیم ایک اور شخص ذبیہہ اللہ نے بتایا کہ اس کی بیوی اوردو بچے سیلاب میں لاپتا ہوچکے ہیں۔ ان کے بارے میں اسے کچھ معلوم نہیں ۔
گزشتہ روز ہی اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت نے سیلاب کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ہیضہ اور سانس کی بیماریاں پھوٹ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اس ادارے نے دوسرے امدادی اداروں کے ساتھ مل کر گشتی ٹیمیں ترتیب دی ہیں جو دوردراز کے علاقوں میں جاکر لوگوں کے علاج معالجے کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ لوگوں میں بیماری سے بچنے کے لئے آگاہی پروگرام بھی ترتیب دیئے گئے ہیں تاکہ بیماریوں کو مزید بڑھنے سے روکا جاسکے۔
پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کی جلد اپنے وطن واپسی کا کوئی واضح امکان نہیں۔ اول توان دنوں افغانستان خود بھی سیلاب میں گھرا ہوا ہے۔ دوسرا یہ بھی غیر واضح ہے کہ افغان حکومت پاکستان میں موجود اپنے شہریوں کی پوری طرح امداد کے قابل کب تک ہوگی۔

XS
SM
MD
LG