رسائی کے لنکس

سیلاب سے متاثرہ کسانوں کی بحالی کے لیے رعایتی پیکج

  • حسن سید

وفاقی وزیر خوراک و زراعت نذر محمد گوندل

وفاقی وزیر خوراک و زراعت نذر محمد گوندل

خوراک اور زراعت کے وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ حکومت نےسیلاب سے تباہ حال کسانوں کے لیے خاص پیکج تیار کیے ہیں جو مرحلہ وار فصلوں کے موسم کے ساتھ پیش کیےجائیں گے تاکہ کا شتکار اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں اور زرعی شعبے کو بحال کیا جائے جس پر 80 فیصد سیلاب زدگان کے روز گار کا انحصار ہے۔

پیر کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کے دوران پہلے پیکج کا اعلان کرتے ہوئے نذر محمّد گوندل نے کہا کہ ستمبر سے خوردنی تیل کی فصلوں کی کاشت کا موسم شروع ہو رہا ہے اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ سیلابی پانی ہٹنے کے ساتھ تقریباً ایک لاکھ ایکڑ متاثرہ زمین پر کینولا اور سورج مکھی کی کاشت کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں 25 فیصد رقبے پر کاشت کے لیے حکومت کسانوں کو مفت بیج فراہم کرے گی اور باقی 75 فیصد کے لیے سیڈ کمپنیوں نے بلا منافع 15 سے 20 فیصد رعایتی نرخوں پر بیج دینے پر اتفاق کیا ہے جب کہ گھی کی صنعت نے کسانوں سے فصلیں خریدنے کی ضمانت دی ہے۔

’’بیج زرعی ترقیاتی بینک کے ذریعے فراہم کیے جائیں گے جس کی ادائیگی’’ڈیفرڈ پیمنٹ‘‘ کی بنیاد پر اس وقت کی جاسکتی ہے جب گھی کی صنعت تیارفصلیں اٹھا لے۔‘‘

نذر گوندل کا کہنا تھا کہ بظاہر خوردنی تیل ایک چھوٹی فصل ہے لیکن اقتصادی لحاظ سے اس کا ابتدائی خرچ تقریباً 50 کڑور روپے ہے جب کہ کل پیداواری مالیت تین ارب بنتی ہے جو ان کے مطابق گھی کی صنعت کے ذریعے کسانوں تک منتقل کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے یقین دلایا کہ حکومت آئندہ آنے والے موسموں اور ان کی فصلوں کے اعتبار سے متاثرہ کسانوں کی امداد کے لیے اس طرح کے مزید پیکجوں کا اعلان کرتی رہے گی۔

انھوں نے کہا کہ گندم کی برآمد کو مؤخر کر دیا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ملک کو گندم کی قلت نہ ہو اور نہ ہی ان کے مطابق مستقبل قریب میں غذائی قلت کا کوئی امکان ہے۔ جب کہ آئندہ سال گندم کی دستیابی کی صورت حال کیا ہوگی اس بات کا انحصار وفاقی وزیر کے مطابق اس بات پر ہے کہ سیلاب سے متاثرہ کتنا رقبہ زیر کاشت لایا جا سکتا ہے۔

انھوں نے متنبہ کیا کہ سیلاب میں جتنے بڑے پیمانے پر فصلوں کو نقصان ہوا ہے اس کے پیش نظر مستقبل قریب میں مہنگائی یقینی ہے اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

حکومت کے ابتدائی جائزوں کے مطابق شدید سیلاب سے کھڑی فصلوں کو تقریباً 240 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔

پاکستان کے کل قابل کاشت رقبے کا تقریباً 15 فیصد متاثر ہوا ہے اور آبپاشی کے 150 سے زائد نیٹ ورک بھی متاثر ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG