رسائی کے لنکس

60 لاکھ سیلاب زدگان کوفوری خوراک فراہم کرنے کا منصوبہ تیار

  • یاسر منصوری

نوشہرہ میں ایک امدادی کیمپ

نوشہرہ میں ایک امدادی کیمپ

عالمی ادارہ برائے خوراک ”ڈبلیو ایف پی“ کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثر ہونے والے تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ افراد میں سے 60 لاکھ افراد کو خوارک اور صاف پانی کی فوری ضرورت ہے اور اس سلسلے میں ادارے نے کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈبلیو ایف پی کے ترجمان امجد جمال نے بدھ کے روز وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ امداد کے متلاشی ان افراد کو تین ماہ تک خوراک مہیا کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس کے لیے ان کے ادارے کو کم از کم 15 کروڑ ڈالر درکار ہوں گے۔

اقوام متحدہ کے مطابق امدادی سرگرمیوں کے سلسلے میں مختلف ممالک اور ادارے تاحال 14 کروڑڈالر امداد فراہم کرنے کا یقین دلا چکے ہیں جب کہ اقوام متحدہ بدھ کو نیو یارک میں عالمی اپیل جاری کرنے جا رہی ہے۔

امریکہ نے ایک روز قبل متاثرین سیلاب کے لیے دو کروڑ ڈالر کی اضافی امداد کا اعلان کیا تھا جب کہ یہ پہلے ہی تین کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی امداد کی یقین دہانی کرا چکا ہے اور اس کے ہیلی کاپٹر اور امدادی کارکن بھی متاثرین کی امداد میں مصروف ہیں۔

اقوام متحدہ نے صوبہ خیبر پختون خواہ میں بد ترین تباہی کا شکار ہونے والے 11 اضلاع میں ابتدائی سروے مکمل کر لیا ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ 26 لاکھ افراد کو امداد کی فوری ضرورت ہے۔ ان علاقوں میں کل مکانات میں سے 21 فیصد مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں جب کہ 18 فیصد کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

عالمی ادارے کے ترجمان حسین الله کے مطابق سڑکیں اور رابطہ پل سیلابی ریلے میں بہہ جانے کے باعث متعدد متاثرہ علاقوں سے زمینی رابطہ کٹ گیا ہے اور موسم خراب ہونے کی وجہ سے، ہیلی کاپٹر ، جو یہاں امدادی کارروائیوں کا واحد ذریعہ ہیں، کی پروازیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

اقوام متحدہ نے یہ انتباہ بھی کیا ہے کہ سیلاب زدگان کی امداد میں تیزی نہیں لائی گئی تو مزید ہلاکتیں ہوسکتی ہیں۔

سندھ میں سیلاب سے متاثرہ خاتون بچوں کے لیے کھانا تیار کررہی ہے

سندھ میں سیلاب سے متاثرہ خاتون بچوں کے لیے کھانا تیار کررہی ہے

سیلاب سے صوبہ پنجاب میں لگ بھگ 3,000 گاؤں متاثر ہوئے ہیں جب کہ صوبہ سندھ اور بلوچستان سمیت گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی سیلاب نے تباہی مچائی ہے ۔

حکام نے بتایا ہے کہ صوبہ پنجاب کے سیلاب زدہ جنوبی اضلاع میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی اہم تنصیبات کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچالیا گیا ہے۔ کورکمانڈر ملتان لفٹیننٹ جنرل شفقات شاہ نے بدھ کے روز میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جنوبی پنجاب کے اضلاع میں کئی اہم تنصیباب ہیں جن میں مظفرگڑھ الیکٹرک پاور کمپنی، کوٹ ادو پاور پلانٹ ، الائیڈ الیکٹرک سسٹم اور پارکو (پاک عرب ریفائنری ) شامل ہیں ۔

جنرل شفقات نے بتایا کہ ماسوائے الائیڈ الیکٹرک سسٹم کے جس سے 750 میگاواٹ بجلی حاصل ہوتی تھی ، دیگر تمام تنصیبات کو بچا لیا گیا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ پارکو اور کوٹ ادو پاور پلانٹ سیلاب سے مکمل طور پر محفوظ رہے ہیں۔ جنرل شفقات کے بقول اگر پارکو کو نقصان پہنچتا تو اس سے قومی سطح پر بہت بڑ ی مشکل پیدا ہو سکتی تھی۔

کور کمانڈر نے بتایا کہ پنجاب میں سب سے زیادہ نقصان ضلع مظفر گڑھ میں ہوا جب کہ دیگر ملحقہ اضلاع لیہ ، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور بھی سیلاب کی زد میں ہیں۔ اُنھوں بتایا کہ تازہ ترین امدادی سرگرمیوں میں مظفرگڑھ سے مزید پانچ ہزار لوگوں کو ہیلی کاپٹروں اور کشتیوں کی مدد سے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

سکھر کے قریب ایک زیرآب آبادی کا منظر

سکھر کے قریب ایک زیرآب آبادی کا منظر

دریں اثناء سندھ کے وزیر آبپاشی جام سیف اللہ دھار یجونے سندھ کے عوام اور متعلقہ حکام کو چوکس رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ دنوں میں اونچے درجے کے مزید سیلابی ریلے بھی آسکتے ہیں ۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ سلسلہ 20 سے 25 روز تک جاری رہ سکتا ہے اس لیے دریائے سندھ کے کنارے کچے کے علاقے میں آباد لوگ ابھی اپنے گھروں کو واپس نہ جائیں۔

ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1,500 سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ اس سے ایک کروڑ 40 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جو کل آبادی کا تقریباً آٹھ فیصد بنتا ہے۔ متاثرین میں 60 لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG