رسائی کے لنکس

پاکستان: لاکھوں سیلاب متاثرین کو خوراک کی غیر مشروط ضرورت


سیلاب سے متاثرہ ایک خاتون (فائل فوٹو)

سیلاب سے متاثرہ ایک خاتون (فائل فوٹو)

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کے ترجمان نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں رہنے والے بیشتر افراد اپنی خوراک کا ذخیرہ کھو بیٹھے ہیں اس لیے آئندہ دو ماہ تک 13 لاکھ افراد کو غیر مشروط خوراک کی فراہمی کی ضرورت ہو گی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں رواں سال شدید بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ لگ بھگ 50 لاکھ افراد میں سے اب بھی 13 لاکھ کو اپنی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے امدادی اداروں کی طرف سے فراہم کی جانے والی خوراک پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک ’ڈبلیو ایف پی‘ کے ترجمان امجد جمال نے ہفتہ کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ افراد کا تعلق صوبہ سندھ کے جیکب آباد، کشمور اور شکار پور کے علاوہ بلوچستان کے جعفر آباد اور نصیر آباد اضلاع سے ہے۔

انھوں نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان کے کئی اضلاع مسلسل تین سالوں سے مسلسل سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں اور ان علاقوں میں رہنے والے بیشتر افراد اپنی خوراک کا ذخیرہ کھو بیٹھے ہیں اس لیے آئندہ دو ماہ تک 13 لاکھ افراد کو غیر مشروط خوراک کی فراہمی کی ضرورت ہو گی۔

’’12 لاکھ لوگوں کو ڈبلیو ایف پی خوراک فراہم کررہا ہے۔ ایک لاکھ لوگ ایسے ہیں جن کی دوسری امدادی تنظیمیں یا حکومتی ادارے معاونت کررہے ہیں تو ہم یہی منصوبہ بندی کررہے ہیں کہ ان 13 لاکھ لوگوں کو غیر مشروط امداد چاہیے ہوگی۔‘‘

امجد جمال نے کہا کہ صوبہ سندھ کے کئی علاقوں میں اب بھی سیلابی پانی کھڑا ہے اور اس صورت حال میں فصلوں کی کاشت ممکن نہیں۔

’’خاص طورپر جیکب آباد اور شکار پور کے کچھ علاقے جہاں ابھی بھی پانی موجود ہے چونکہ موسم تبدیل ہوگیا ہے سردی کا موسم بھی ہے تو یہاں اس طریقے سے پانی بخارات میں تبدیل نہیں ہوگا جیسے گرمیوں میں ختم ہوتا ہے اور ان علاقوں میں کاشت نہیں ہوپائے گی۔ تو ان لوگوں کو بھی غیر مشروط مدد کی ضرورت ہوگی۔‘‘

رواں سال ستمبر اور اکتوبر میں ہونے والی شدید بارشیں اور سیلاب 400 سے زائد افراد کی ہلاکت کا سبب بنے اور سب سے زیادہ صوبہ سندھ کے اضلاع متاثر ہوئے۔
XS
SM
MD
LG