رسائی کے لنکس

متاثرہ علاقوں میں نوزائیدہ بچوں کی ہلاکتوں پر تشویش

  • حسن سید

متاثرہ علاقوں میں نوزائیدہ بچوں کی ہلاکتوں پر تشویش

متاثرہ علاقوں میں نوزائیدہ بچوں کی ہلاکتوں پر تشویش

پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں کام کرنے والے بین الااقوامی امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ دس ہفتوں کی مشترکہ کوششوں سے وبائی امراض اور ان سے ہونے والی ہلاکتوں کا خطرہ بہت حد تک ٹل گیا ہے لیکن طبی سہولیات کی عدم دستیبابی کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں نوزائیدہ بچوں کی زندگیوں کواب بھی خطرات لاحق ہیں۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں فرانسیسی تنظیم’’میڈیسن سین فرنٹیزز‘‘ کی ایک سینئرعہدیدار ہیلری باور نے بتایا کہ سیلاب میں جو تباہی ہوئی اس میں کئی خاندان چھتوں سے محروم ہو گئے اور اب ان کے ہاں بچوں کی پیدائش ایسے مقامات پر ہورہی ہے جو قطعاً حفظان صحت کے مطابق نہیں اور جس کی وجہ سے نوزائیدہ بچے تشنج کی بیماری کا شکار ہو کر ہلاک ہو رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کی تشنج سے بچاؤ کا موثر ذریعہ ماں اور بچے کو حفاظتی ٹیکے لگوانا ہے لیکن کئی متاثرہ علاقے ایسے ہیں جہاں طبی مراکز تباہ ہونے کے باعث اس کی سہولت موجود نہیں۔

ہیلری باور کو تشنج کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے کل نوزائیدہ بچوں کی تعداد اگرچہ معلوم نہیں تھی تاہم انھوں نے بتایا ’’ستمبر کے دوران بلوچستان میں صرف ڈیرہ مراد جمالی میں پندرہ بچے تشنج کا شکار ہوئے اوران میں سے نصف ہلاک ہو گئے جس سے صورت حال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔‘‘

سیلاب زدہ علاقوں میں تشنج سے ہونے والی ہلاکتیں غیر متوقع نہیں ہیں کیونکہ اس قدرتی آفت کے بعد ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے تھے کہ متاثرہ علاقوں میں جو پانچ سے چھ لاکھ حاملہ خواتین موجود ہیں ان میں سے کئی کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ہیلری باور نے بتایا کہ متاثرین کو صاف پانی اور حفظان صحت کٹس کی وافر مقدار میں فراہمی سے وبائی امراض کا خطرہ بہت حد تک ٹل گیا ہے اور کئی علاقوں میں اب اسہال کے علاج کے لیے قائم خصوصی سینٹربھی ختم کیے جا رہے ہیں۔ لیکن انہوں نے بتایا کہ اب خوراک کی کمی ایک سنگین مسئلہ بن کر ابھر رہی ہے جس سے ہلاکتیں واقع ہونے کے خدشات بھی موجود ہیں۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ خوراک کی کمی سے سب سے زیادہ خطرہ کمسن بچوں کو ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جولائی کے مہینے میں ان کی تنظیم کےڈیرہ مراد جمالی میں قائم ایک مرکز میں ساڑھے پانچ سو ایسے بچے لائے گئے تھے جو شدید غذائی قلت کا شکار تھے جبکہ گذشتہ ماہ دو ہزار سے زائد بچے لائے گئے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ متاثرہ بچوں کی تعداد میں تیزی سےاضافہ ہو رہاہے ۔

XS
SM
MD
LG