رسائی کے لنکس

سیلاب سے639 کلومیڑ طویل سڑکیں اور 46 پل تباہ


ارباب عالمگیر صحافیوں کو تفصیلات بتا رہے ہیں

ارباب عالمگیر صحافیوں کو تفصیلات بتا رہے ہیں

وفاقی وزیر مواصلات ارباب عالمگیر نے کہا ہے کہ حالیہ سیلاب سے 639 کلومیڑ طویل قومی شاہراہیں جزوی یا کلی طور تباہ ہو گئی ہیں جب کہ 46 اہم پل بھی متاثر ہوئے ہیں جنہیں فعال بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ بدھ کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں اُنھوں نے کہا کہ سڑکوں اور پلوں کو ہونے والے نقصانات کا ابتدائی تخمینہ ساڑھے تیرہ ارب روپے سے زائد لگایا گیا ہے ۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ جزوی طور پر تباہ ہونے والی سڑکوں او ر پلوں کی تعمیر نو میں چھ سے آٹھ مہینے لگ سکتے ہیں اور اُن کے بقول اگر مالی وسائل دستیاب ہوئے تو بڑے پلوں کی تعمیر دو سالوں میں مکمل ہو سکے گی۔

ارباب عالمگیر نے بتایا کہ لوئردیر،اپر دیر اور چترال کو ملک کے دوسرے علاقوں سے ملانے والا انتہائی اہم چکدرہ پل بھی بدھ سے بھاری ٹریفک کے لیے کھولا جا رہا ہے ۔ اُنھوں نے بتایا کہ اس پل کو چھوٹی گاڑیوں کے لیے دو ہفتے قبل ہی کھول دیا گیا تھا۔

چکدرہ پل کے ذریعے بڑی گاڑیوں کی آمدورفت کے آغاز کے بعد متاثرہ اضلاع میں سیلاب زدگان تک زمینی راستے کے ذریعے خوراک اور ادویات کی فراہمی میں تیز ی آئے گی۔

وزرات مواصلات کا کہنا ہے کہ سندھ کے بعض اضلاع میں اب بھی قومی شاہراہوں کے کچھ حصے زیر آب ہیں اور پانی کی سطح نیچے آنے کے بعد ہی وہاں سڑکوں کوہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگایا جاسکے گا۔ وزارت کے مطابق گلگت بلتستان کو ملک کے دوسرے حصوں سے ملانے والی شاہراہ قراقرم کو بھی بڑی گاڑیوں کے لیے کھول دیا گیا ہے جس سے گلگت بلتستان اور بشام کے علاقوں میں روزمرہ کی اشیاء پہنچنا شروع ہو گئی ہیں۔

پاکستان میں حالیہ سیلا ب سے دو کروڑ افراد متاثر جب کہ ساڑھے ستر ہ سو سے زائد ہلاک ہو گئے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG