رسائی کے لنکس

سیلاب سے شمال مغربی پاکستان کے بیشتر علاقے متاثر

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

پشاور کو چارسدہ سے ملانے والی سڑک بھی شدید بارش اور سیلابی پانی سے متاثر ہوئی جس سے ان دونوں شہروں کے درمیان رابطہ کئی گھنٹوں تک عملاً منقطع رہا۔

پاکستان کے شمال مغرب میں موسلادھار بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے پیش آنے والے واقعات میں اتوار کو مزید سات لاشیں برآمد ہونے پر مرنے والوں کی تعداد 32 ہوگئی ہے۔

حکام کے مطابق جانی نقصان کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں کم از کم پانچ لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوچکے ہیں جب کہ سینکڑوں دیہات بھی زیر آب آچکے ہیں جہاں امدادی کارکن متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور ان میں امدادی سامان تقسیم کرنے میں مصروف ہیں۔

اتوار کو خیبر پختونخوا کے مرکزی شہر پشاور میں بارش کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آگئی جس کی وجہ سے پانی متعدد علاقوں میں داخل ہونے سے وہاں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔

پشاور کو چارسدہ سے ملانے والی سڑک بھی شدید بارش اور سیلابی پانی سے متاثر ہوئی جس سے ان دونوں شہروں کے درمیان رابطہ کئی گھنٹوں تک عملاً منقطع رہا۔

اب تک ضلع چترال اور اس کے گرد نواح میں سیلاب نے سب سے زیادہ تباہی مچائی ہے جہاں تقریباً تین لاکھ لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔ کئی پل اور رابطہ سڑکیں متاثر ہونے کی وجہ سے دور دراز علاقوں کا زمینی رابطہ کٹ چکا ہے جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

پنجاب کے جنوبی اضلاع میں بھی سیلاب سے خاصا نقصان ہو چکا ہے اور یہاں بڑے رقبے پر کھڑی فصلیں اور مویشی بھی سیلابی پانی سے متاثر ہوئے ہیں۔

جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے بعض اضلاع بھی موسلادھار بارشوں کی وجہ سے نالوں میں آنے والی طغیانی سے متاثر ہوئے ہیں جب کہ جنوبی صوبہ سندھ میں سیلاب کے ممکنہ خطرے سے بچنے کے لیے حکام کے بقول ہنگامی طور پر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

امدادی کاموں میں دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ ساتھ پاکستانی فوج بھی سرگرم ہے جس کے اہلکار کشتیوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔

پاکستان کو گزشتہ پانچ سالوں سے ہر سال مون سون کے موسم میں سیلابوں کا سامنا رہا ہے جس کی وجہ سے بھاری جانی نقصان کے علاوہ بڑے پیمانے پر املاک، بنیادی ڈھانچہ اور نقد آور فصلیں بھی متاثر ہو چکی ہیں۔

XS
SM
MD
LG