رسائی کے لنکس

سیلاب کے نقصانات کا اندازہ لگانے کے عمل کا آغاز

  • یاسر منصوری

عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے حکومت پاکستان کی درخواست پر ملک میں تباہ کن سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور بحالی و تعمیرنو کے لیے درکار وسائل کا اندازہ لگانے کے عمل کا آغاز کر دیاہے۔

بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی امور کی ڈویژن کے تعاون سے کی جانے والی اس ڈیمیئج اینڈ نِیڈ اسسمنٹ (Damage and Need Assessment) ڈی این اے میں سیلاب سے ہونے والے براہ راست نقصانات، بلاواسطہ نقصانات اور تعمیر نو پر آنے والے متوقع اخراجات کا تخمینہ لگایا جائے گا۔

عالمی بنک کے عہدیدار رشید بن مسعود نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک اقوام متحدہ اور دیگر اہم عطیہ دینے والے اداروں کے ساتھ معاونت اور معلومات کے تبادلے کی شکل میں تعاون کرے گا۔

دونوں مالیاتی ادارے ماضی میں تین بار پاکستان میں قدرتی آفات سے ہوئے نقصانات کا تخمینہ لگانے میں حکومت کی معاونت کر چکے ہیں، لیکن ایشیائی ترقیاتی بینک کے مقامی سربراہ رون اسٹروم (Rune Strome) کا کہنا ہے کہ حالیہ ڈی این اے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس بار تباہی انتہائی بڑے پیمانے اوروسیع رقبے پر ہوئی ہے ۔

ان کے مطابق اگر سیلاب کے کسی نئے مرحلے کا آغاز نہیں ہوتا اور اعداد و شمار کو اکٹھا اورمرتب کرنے کا عمل بغیر کسی تعطل کے جاری رہتا ہے تو ماہرین کی جانب سے اس مہم کو اکتوبر کے وسط تک مکمل کر لینے کی توقع ہے۔

واضح رہے کہ ڈی این اے کا عمل کسی آفت کے بعد جلد از جلد کرایا جاتا ہے تا کہ متعلقہ حکومت اور بین الاقوامی برادری کو نقصانات اور بحالی کے لیے درکار وسائل کے مستند تخمینہ جات معلوم ہو سکیں۔

سیلاب کے نقصانات کا اندازہ لگانے کے عمل کا آغاز

سیلاب کے نقصانات کا اندازہ لگانے کے عمل کا آغاز

ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب کا آغاز گذشتہ ماہ کے اواخر میں ہوا تھا اور عہدیداروں کے مطابق اس سے دو کروڑ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جب کہ سیلابی ریلا ابھی سندھ سے گزر رہا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کے باعث ندی نالوں اور دریاؤں میں ایک بار پھر طغیانی کا امکان ہے۔
سیلاب سے چاروں صوبوں کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، گلگت بلتستان اور شمال مغربی قبائلی علاقوں میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 60 ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ متاثر ہوا ہے جو انگلینڈ کے مجموعی رقبے سے زیادہ ہے۔

سیلاب سے ملک بھر میں مواصلات کے نظام کے ساتھ ساتھ زراعت، آبپاشی، توانائی اوربنیادی سہولیات کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے جب کہ 12 لاکھ سے زائد مکانات یا تو تباہ ہو گئے ہیں یا ان کو نقصان پہنچا ہے ۔عالمی بینک نے صرف زراعت کے شعبہ میں نقصانات کا ابتدائی تخمینہ ایک ارب ڈالر لگایا ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب سے کئی سو ارب روپے کا نقصان ہوا ہے اور صدر آصف علی زرداری کے مطابق بحالی اور تعمیرنو کے لیے کئی سالوں کا عرصہ درکار ہوگا۔

XS
SM
MD
LG