رسائی کے لنکس

سیلاب زدگان کو بیماریوں سے محفوظ رکھناایک بڑا چیلنج

  • حسن سید

ڈاکٹر ممتاز خان

ڈاکٹر ممتاز خان

مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں کو سیلاب زدہ علاقوں میں موجود لوگوں کو طبی امداد پہنچانے اور انھیں بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں خاصی مشکلات کا سامنا ہےکیونکہ کہیں تومتاثرین تک رسائی مشکل اورکہیں سیلابی پانی کی موجود ہے۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہےمتاثرہ علاقوں میں گندے پانی کی نکاسی نہ ہونے سے جان لیوا وبائی امراض پھوٹنے کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

لیکن ڈاکٹروں کی ایک مقامی تنظیم پاکستان اسلامی میڈیکل ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ایک مؤثرحکمت عملی اپنانے، عالمی امداد کی فراہمی اور مقامی وسائل کو منظم انداز میں بروئے کار لا کر اس خطرے کو 80 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

تنظیم کےسیکرٹری جنرل ڈاکٹر ممتاز خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ دست ،اسہال ،ہیضہ ، سانس، جلد اورآنتوں کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ ایک کڑا چیلنج پانچ لاکھ سے زائد حاملہ خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پی آئی ایم اےمتاثرہ علاقوں میں غیر ملکی اور غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ جبکہ تنظیم نےاپنے طور پر نوشہرہ، میانوالی سکھراور ڈیرہ مراد جمالی سمیت 14 شدید متاثرہ علاقوں میں طبی ماہرین کی موبائل ٹیمیں بھیج رکھی ہیں جو ان علاقوں میں حاملہ خواتین پر خاص توجہ دے رہی ہیں اور کشتیوں کے علاوہ فوج کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بھی ان تک رسائی حاصل کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر ممتاز خان نے بتایا کہ سیلاب میں ابتدائی طور پر 1500 افراد کی ہلاکت کے بعد جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پوراور بلوچستان کے ڈیرہ مراد جمالی میں بیماریوں اور دوسری وجوہات کی بنا پرروزانہ سات سے آٹھ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں لیکن امدادی اداروں نے ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے اس صورت حال کو سنبھال لیا۔

انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر آگے چل کر میڈیا اور بین الاقوامی برادری کی توجہ سیلاب کی سنگینی سے ہٹتی ہے تومتاثرین کی مزید بڑی تعداد میںٕ ہلاکتوں کی ایک اور لہر کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔

XS
SM
MD
LG