رسائی کے لنکس

پاکستان کو اقتصادی ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت ہے: ماہرین

  • شہناز نفیس

عالمی بینک کے ایک سابق اعلیٰ عہدے دار اور پاکستان کے سابق وزیر خزانہ شاہد جاوید برکی نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت بیرونی امداد کی سخت ضرورت ہے اور باہر سے پیسہ آئے بغیر وہ حالیہ چیلنجز کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔

پاکستان اپنی تاریخ کے بدترین سیلابوں کی وجہ سے جہاں بےشمار چیلنجز کا سامنا کررہاہے، وہاں اسے ایک اور بڑےچیلنج، پہلے سے کمزور معیشت کو پہنچنے والا شدید دھچکا بھی ہے۔ اس چیلنج کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستانی حکام بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے ساتھ 10 ارب ڈالر کے قرضوں کی شرائط کے حوالے سے واشنگٹن میں مذاکرات کررہے ہیں۔

ان مذاکرات سے وابستہ توقعات اور اس کی اہمیت بتاتے ہوئے پاکستان کے سابق وزیر خزانہ سرتاج عزیز نے کہا کہ اگر پاکستان آئی ایم ایف کو 2008ء کے قرضے کی شرائط کو نرم کرنے یا پھر نئے قرضے لیے آمادہ کرلیتا ہے تو قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید وقت مل جائے گا۔

دوسری جانب عالمی بینک کے ایک سابق اعلیٰ عہدے دار اور پاکستان کے سابق وزیر خزانہ شاہد جاوید برکی نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت بیرونی امداد کی سخت ضرورت ہے اور باہر سے پیسہ آئے بغیر وہ حالیہ چیلنجز کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔

لیکن ان کا یہ بھی کہناتھا کہ لوگوں کو یہ احساس بھی ہے کہ پاکستان اپنے لیے کچھ کرنے کوتیار نہیں ہے ،جو اچھا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ بنیادی اقتصادی اصلاحات کی جائیں اور ٹیکس وصولی کا نظام مؤثر بنایا جائے۔

XS
SM
MD
LG