رسائی کے لنکس

دو ماہ بعد بھی ایک کروڑ متاثرین سیلاب کو خوراک کی کمی کا سامنا

  • حسن سید

عالمی اداروں کے نمائندے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کررہے ہیں

عالمی اداروں کے نمائندے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کررہے ہیں

سندھ کے شدید متاثرہ علاقے دادو اور سیہون سمیت تمام علاقوں میں پہنچنے کے لیے تمام اداروں نے ایک مربوط حکمت عملی تیار کی ہے جس کا مقصد متاثرین کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے علاوہ اسہال ، ملیریا ، سانس کی بیماریوں اور خسرہ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے بھی فوری اور جلد امداد کو یقینی بنانا ہے ۔

اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں سیلاب زدہ علاقوں میں تقریباً ایک کروڑ متاثرین کو اب بھی خوراک کی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں کا سنگین خطرہ موجود ہے ۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یونیسف کے نمائندے لوئس جارج ، عالمی ادارے صحت کے ایرک لاروش اور عالمی ادارہ خوراک کے ڈیوڈ کیٹرڈ نے کہا کہ پینے کا غیر محفوظ پانی ، صفائی کی غیر تسّلی بخش صورتحال اور صحت کی سہولتوں تک رسائی میں مشکلات وہ مسائل ہیں جو متاثرین کی صحت اور زندگیوں کے لیے بدستور خطرہ بنے ہوئے ہیں جبکہ آئندہ موسم سرما ان متاثرین کے لیے ایک نیا چیلنج بن رہا ہے جو ایسے خمیوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں جو سردی سے تحفظ فراہم نہیں کر سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ خوراک کی کمی کے سلسلے میں صورتحال زیادہ سنگین اس لیے ہوئی ہے کہ سیلاب سے بڑے پیمانے پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے اور اب خوراک کی کمی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کاخطرہ بچوں کو ہے۔

ڈیوڈ کیٹرڈ

ڈیوڈ کیٹرڈ

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں ڈیوڈ کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ دو کروڑ آبادی میں سے ایک کروڑ کو خوراک کی ضرورت تھی جس میں سے 60 لاکھ کو ڈبلیو ایف پی اور اس کے امدادی ادارے خوراک پہنچا رہے ہیں جب کہ باقی 40 لاکھ تک پہنچ کر ان کی غذائی ضروریات کو پورا کرنا ابھی باقی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ دس لاکھ کی اس پوری آبادی کو ہی غذائی قلت کا سامنا ہے اوران میں ہلاکتوں کے خطرات بھی موجود ہیں۔

امدادی اداروں کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ اس صورت حال کی سنگینی کے پیش نظر وہ امدادی سرگر میوں کا دائرہ اور رفتار مزید تیز کررہے ہیں اور اس سلسلے میں اولین ترجیح غذائی قلت کو دور کرنے کو دی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے شدید متاثرہ علاقے دادو اور سیہون سمیت تمام علاقوں میں پہنچنے کے لیے تمام اداروں نے ایک مربوط حکمت عملی تیار کی ہے جس کا مقصد متاثرین کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے علاوہ اسہال ، ملیریا ، سانس کی بیماریوں اور خسرہ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے بھی فوری اور جلد امداد کو یقینی بنانا ہے ۔

دریں اثنا سیلاب زدگان تک امداد کی شفاف فراہمی کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے قائم نیشنل اوورسائیٹ ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کونسل کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ روزگار سے محروم ہونے والوں کو روزگار کی فراہمی کے لیے انھوں نے انتظامیہ کو متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر زرعی سرگرمیوں کی بحالی کی ہدایت کی ہے ۔

XS
SM
MD
LG