رسائی کے لنکس

سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے محفل موسیقی


سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے محفل موسیقی

سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے محفل موسیقی

مقامی نوجوانوں کو پاکستان میں ہونے والی تباہی سے آگاہ کرنے اور انھیں سیلاب زدگان کی مدد کے لیے ابھارنے کے لیے انھوں نے ایک کیری اوکے نائٹ کا اہتمام کیا۔ جہاں ناصرف مقامی نوجونواں نے شرکت کی بلکہ ان کے خاندان کے افراد نے بھی ان کا ساتھ دیا۔

پاکستان میں حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کے مناظر آہستہ آہستہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوتے جا رہے ہیں اور اس کے لیے ہونے والی ریلیف کی کوششیں بھی کم ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ لیکن یہاں امریکہ میں پاکستانی نوجوان اس حوالے سے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گزشتہ دنوں چند پاکستانی اور بھارتی نوجوانوں نے یہاں کہ نوجون نسل کے لیے اس حوالے سے ایک کیری اوکے نائٹ یا محفل موسیقی کا انعقاد کیا جہاں انھوں نے ناصرف اپنے انداز میں چندہ جمع کیا بلکہ آپس کی دوریوں کو مٹانے کی ایک کوشش بھی کی ۔

کیری اوکے ایک ایسا طریقہ کار ہے جس کے ذریعے موسیقی کو شاعری کے بغیر ریکارڈ کر لیا جاتا ہے اور کوئی بھی اپنی آواز میں موسیقی کے سروں پر گانا گا سکتا ہے۔ نوجوانوں کے لیے یہ ایک پرکشش چیز ہے اور امریکہ میں ہر بڑے شہر کے ریستورانوں میں کیری اوکے کی محفلیں منعقد کی جاتی ہیں جہاں لوگ اپنے گانے کا شوق پورا کر سکتے ہیں۔

آصف تالپور ایک پاکستانی امریکن نوجوان ہیں جو گانا گانے کا شوق رکھتے ہیں۔ اور ان کے ایک دوست ہتیش میرچندانی ایک طالبعلم ہیں اور مارکیٹنگ کے شعبے میں کام کرتے ہیں۔ ان دونوں دوستوں نے مل اپنے شوق اور کام کے ذریعے سماجی خدمت کا فیصلہ کیا۔ مقامی نوجوانوں کو پاکستان میں ہونے والی تباہی سے آگاہ کرنے اور انھیں سیلاب زدگان کی مدد کے لیے ابھارنے کے لیے انھوں نے ایک کیری اوکے نائٹ کا اہتمام کیا۔ جہاں ناصرف مقامی نوجونواں نے شرکت کی بلکہ ان کے خاندان کے افراد نے بھی ان کا ساتھ دیا۔

ہتیش میر چندانی کا کہنا تھا ہم یہاں جو علم اور دولت کما رہے ہیں اس کا اس سے اچھا استعمال ہم نہیں کر سکتے ۔ اور ہمیں اپنے لوگوں کو اس مشکل گھڑی میں یاد رکھنا چاہیے۔

ہتیش اور آصف اس سے پہلے بھی ہیٹی میں آنے والے زلزلے اور بھارت میں غریب بچوں کی تعلیم کے لیے اسی طرح چندہ جمع کر چکے ہیں۔

آصف تالپو ر کا کہنا تھا کہ یہ دیکھتے ہوئے کہ دنیا بھر سے بہت ہی کم امداد پاکستان کے سیلاب زدگان کے لیے آ رہی ہے ، انھوں نے اپنے طور سے مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔

پاکستانی اور بھارتی نوجوانوں کی اس مشترکہ کوشش میں ایک باہمی اعتماد اور بھائی چارے کی فضا بھی دیکھنے کو ملی ۔ محفل میں شریک نوجوانوں کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت اچھی بات ہے کہ ہم یہاں ناصرف مل جل کر بیٹھتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے ہیں۔ برعکس اس کے جو ہمیں پاکستان یا بھارت سے سننے کو ملتا ہے۔

ایک مقامی نوجوان دیپک بھاگاوت کا کہنا تھا کہ وہ یہاں امن سے رہتے ہیں ، اور جب بھی وہ بھارت جاتے ہیں تو یہی پیغام لے کر جاتے ہیں کہ انھیں ہر کام میں امن کی راہ ڈھونڈنی چاہیے۔

اس محفل میں جمع ہونے والے چندے کو ناصرف براہ راست سیلاب زدگان تک پہنچایا گیا بلکہ چند مقامی غیر منافع بخش اور فلاحی تنظیموں نے بھی اس سلسلے میں ان نوجوانوں کی مدد کی۔

ایک مقامی فلاحی تنظیم سہارو کے نمائندے حنیف سانگی نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ مقامی طور پر ہونے والی کوششوں کے نتیجے میں جمع ہونے والے چندے کو جلد از جلد سیلاب متاثرین تک پہنچایا جائے اور اس سلسلے میں ہونے والے اخراجات کو کم سے کم کیا جائے تاکہ متاثرین تک زیادہ سے زیادہ امداد پہنچے۔

مقامی نوجوانوں کی اس طرح کی کوششوں کو امریکہ میں موجود پاکستانی کمیونٹی میں بھی بہت سراہا گیا ۔کمیونٹی کے ممبران کا کہنا تھا چھوٹے پیمانے پر اس طرح کی کوششوں کی ضرورت نا صرف پاکستان میں بلکہ دنیا میں ہر جگہ موجود پاکستانیوں کو کرنی ہوں گی۔


XS
SM
MD
LG