رسائی کے لنکس

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ایک بیان کے مطابق اب تک فوج 29 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر چکی ہے۔

پاکستان میں دریائے چناب میں آنے والا ایک بڑا سیلابی ریلہ پنجاب کے جنوبی ضلع ملتان کی حدود سے گزر رہا ہے۔

ملتان شہر کو بچانے کے لیے بعض مقامات پر بنائے گئے حفاظتی پشتوں میں شگاف بھی ڈالے جس سے ملتان کے لگ بھگ 300 دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔

جمعہ کو وفاقی کابینہ کے ایک اجلاس میں آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے ’این ڈی ایم اے‘ کے سربراہ میجر جنرل سعیدعلیم نے بتایا کہ اب تک 274 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 43 ہزار گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہزاروں خاندان اب بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے موقع پر کہا کہ یہ صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ کو ہائی الرٹ کیا جا چکا ہے۔

آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کے مطابق سیلاب سے متاثرین کی تعداد 11 لاکھ ہے جب کہ سیلاب سے متعلقہ صوبہ پنجاب کی کمیٹی کے رکن زعیم قادری نے بتایا تھا کہ سیلاب سے 18 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے بھی جمعہ کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندانوں کو یقین دہانی کروائی کہ حکومت اُن کی ہر ممکن مدد کرے گی۔

’’میں آپ کو یہ کہنے آیا ہوں کہ جس کسی کا گھر اُجڑا ہے، جس کسی کے گھر کو نقصان پہنچا ہے۔ ہم گھروں کی تعمیر کرنے کے لیے آپ سب کی مدد کریں گے۔‘‘

صوبہ پنجاب کے وسطی علاقوں میں تباہی مچانے کے بعد اب سیلاب جنوبی اضلاع سے گزر رہا ہے۔ مظفر گڑھ، رحیم یار خان اور راجن پور کو بھی سیلاب سے خطرہ ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق سیلابی ریلا 15 اور 16 ستمبر کے درمیان گڈو بیراج جب کہ 16 سے 17 ستمبر کو سکھر بیراج سے گزرے گا۔

امدادی کاموں میں پاکستانی فوج بھی بھرپور حصہ لے رہی ہے اور فوج کے ترجمان کے مطابق آرمی چیف نے یہ واضح ہدایات دے رکھی ہیں کہ انسانی جان بچانے کے لیے کسی حکم کا انتظار نا کیا جائے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ایک بیان کے مطابق اب تک فوج 29 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG