رسائی کے لنکس

آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) نے متنبہ کیا ہے کہ اس سال بھی جولائی کے وسط سے ستمبر کے دوران مون سون بارشوں کے باعث ملک میں شدید سیلابی ریلوں کا خطرہ ہے۔

ادارے کے چیئرمین ظفر اقبال قادر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے امکان ظاہر کیا ہے کہ پاکستان کے وہی علاقے سیلاب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں جو گزشتہ دو سالوں کے دوران اس قدرتی آفت کی زد میں آتے رہے ہیں۔

’’آفت کی جو شدت ہے وہ دیکھا جا رہا ہے کہ بہت زیادہ ہے۔ دوبارہ پاکستان کو غیر متوقع (بارشوں اور سیلابوں) کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دو کروڑ نوے لاکھ لوگ ہمارے تخمینے کے مطابق متاثر ہو سکتے ہیں اور ہم اپنے طور پر یہ اعداد و شمار ذہن میں رکھ کر تیاری کر رہے ہیں۔‘‘

ظفر اقبال قادر

ظفر اقبال قادر

این ڈی ایم اے کے چیئرمین نے بتایا کہ سیلاب سے لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر ہنگامی اور امدادی کارروائیوں کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ان کے ادارے نے تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ خوراک، ادویات، خیمے اور دیگر ضروری سامان اکٹھا کرنا شروع کر دیں۔

ظفر اقبال قادر نے کہا کہ شدید بارشوں اور پہاڑوں سے برف پگھلنے کے باعث گلگت بلتستان، خیبر پختون خواہ کے بعض علاقوں اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے پہاڑی اضلاع میں لینڈ سلائیڈنگ یا زمین سرکنے کے بھی خدشات ہیں۔

این ڈی ایم اے کے چیئرمین نے کہا کہ اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی امدادی تنظیموں کو بھی صورت سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

’’ہم نے ان سے کہا ہے کہ آفت آنے سے پہلے وہ ہمیں کچھ امداد اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے حوالے بھی دیں۔‘‘

ظفر اقبال قادر نے کہا کہ کسی بھی ہنگامی صورت حال کے تناظر میں بین الاقوامی امدادی تنظیموں کے ساتھ رابطوں کے لیے ایک طریقہ کار بھی وضع کر دیا گیا ہے۔ ’’تاکہ ابھی سے لوگوں کے آپس میں رابطے ہو جائیں اور اس وقت وہ یہ نا ڈھونڈتے پھریں کہ کس نے کس سے بات کرنی ہے۔‘‘

پاکستان میں گزشتہ دو سالوں کے دوران تباہ کن سیلابوں کے باعث دو کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جب کہ انتظامی ڈھانچے بشمول قومی شاہراہوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ سیلاب سے ملک کی معیشت کو 10 ارب ڈالر سے زائد نقصان پہنچا جس کی وجہ سے اقتصادی ترقی سست روی کا شکار ہوئی ہے اور بعض متاثرہ علاقوں میں اب بھی تعمیر نو کی سرگرمیاں جاری ہیں۔

این ڈی ایم اے کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ ممکنہ سیلاب کی زد میں وہ علاقے بھی آ سکتے ہیں جہاں تعمیر نو کا کام جاری ہے۔

XS
SM
MD
LG