رسائی کے لنکس

پاکستان: شدید بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پشاور میں شدید بارشوں سے آنے والی طغیانی کی وجہ سے مختلف علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔

پاکستان کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب سے کم ازکم 17 افراد ہلاک جب کہ املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

شمال مغربی خیبر پختونخواہ میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے ’پی ڈی ایم اے‘ کے حکام نے ہفتہ کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بارشوں کے باعث چترال کے دریاؤں میں آنے والی طغیانی کے باعث ایک سو سے زائد گھر اور درجنوں عمارتیں مکمل طور پر تباہ جب کہ کئی رابطہ پلوں اور سڑکوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

حکام نے یہاں پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سیلابی صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں سے ہونے والی شدید بارشوں کے باعث پشاور شہر کے برساتی نالوں کا پانی بھی نشیبی علاقوں میں داخل ہو گیا جہاں کئی مکانات کے منہدم ہونے اور کاروبار زندگی مفلوج ہونے کی اطلاعات ہیں۔

پشاور میں بارشوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال میں چار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

’پی ڈی ایم اے‘ کے مطابق دریائے کابل میں ورسک اور نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے جب کہ پشاور میں بدھنی اور چغور نالوں میں پانی کی سطح کم ہو رہی ہے۔

پاکستان کے دیگر صوبوں پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے علاوہ اس کے زیر انتظام کشمیر میں بھی موسلادھار بارشوں کی وجہ سے جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

بلوچستان کے علاقے حب میں بارشوں کے باعث ایک دیوار گرنے سے چار بچوں سمیت کم ازکم چھ افراد ہلاک ہوگئے۔

وزیراعظم نواز شریف نے تمام متعلقہ اداروں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہدایت جاری کر دی ہیں۔

ادھر محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ آئندہ 24 گھنٹے تک جاری رہنے کی توقع ہے۔

محکمے کے سربراہ عارف محمود نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ بارشیں اس موسم کی معمول کی بارشیں ہیں۔

’’جولائی میں مون سون کی بارشیں تقریباً 30 فیصد کم ہوئیں لیکن ابھی اگست میں شروع ہونے والی بارشیں تو معمول کے مطابق ہیں جب کہ سلسلہ ختم ہوگا تو پھر اس کا گزشتہ سالوں کی بارشوں سے موازنہ کیا جائے گا۔‘‘

پاکستان میں گزشتہ تین سالوں کے دوران مون سون کی شدید بارشوں کے باعث تواتر سے سیلاب آتے رہے ہیں جس سے سینکڑوں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہونے کے علاوہ، املاک اور بنیادی ڈھانچے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ چکا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق ان بارشوں سے ملک کے آبائی ذخائر کی صورت حال بھی بہتر ہوئی ہے اور خاص طور پر ملک کا سب بڑا تربیلہ ڈیم تقریباً بھر چکا ہے۔
XS
SM
MD
LG