رسائی کے لنکس

امداد کی تقسیم سے پہلے سیلاب زدگان کا اندراج

  • ب

پاکستان میں آفات سے نمٹنے کے لیے قومی ادارے ”این ڈی ایم اے“ نے کہا ہے کہ ملک کے 79 سیلاب زدہ اضلاع میں متاثرین کے اندراج کے لیے ایک ہزار آٹھ سو مراکز قائم کیے جارہے ہیں تاکہ مالی اعانت کی شفاف تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔

ادارے کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ رقوم کی تقسیم مقامی محکمہ بہبود آبادی کی سرپرستی میں کی جائے گی اور اس عمل میں پناہ گرینوں کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ یو این ایچ سی آر اور پاکستان میں قومی سطح پر اعداد و شمار جمع کرنے کا ادارہ نادرا معاونت فراہم کرے گا۔

اس سلسلے میں این ڈی ایم اے نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ تمام متاثرہ علاقوں کی فہرستیں 28 اگست تک اسے فراہم کر دی جائیں۔

طے شدہ طریقہ کار کے مطابق سیلاب زدگان اپنے شناختی کارڈ کے ہمراہ ان اندراجی مراکز سے رجوع کریں گے جہاں محکمہ بہبود آبادی، نادرا، یو این ایچ سی آر اور عالمی بنک کے نمائدے ان کا اندراج کریں گے۔ نادرا کی جانب سے ان کے کوائف کی تصدیق کے بعد بنک کا نمائندہ ان متاثرین کو پانچ ہزار روپے نقد اور آئندہ رقوم کی تقسیم کے لیے ایک مخصوص کارڈ جاری کرے گا۔ اس موقع پر سیلاب زدگان کو درپیش مشکلات کی بنیاد پر معلومات بھی اکٹھی کی جائیں گی۔

این ڈی ایم اے کا کہنا ہے ایسے افراد جو سیلاب کے دوران اپنے شناختی کارڈ سے محروم ہو گئے ہیں لیکن ان کے پاس اپنی شناخت ظاہر کرنے والی دوسری قانونی دستاویزات موجود ہیں، ان کو موقع پر متبادل شناختی کارڈ جاری کیا جائے گا تاکہ وہ ابتدائی مالی امداد وصول کر سکیں۔ تاہم جن افراد کے پاس کوئی شناختی دستاویزات دستیاب نہیں انھیں کوائف کی تصدیق مقامی ڈپٹی کمشنر سے کرانا ہوگی۔

پاکستانی عہدیداروں کے مطابق سیلاب سے دو کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جب کہ اقوام متحدہ نے ان کی تعداد لگ بھگ ایک کروڑ 72 لاکھ بتائی ہے ۔ تاحال کوئی مستند تعداد سامنے نہیں آسکی ہے اور اسی وجہ سے سرکاری سطح پر سیلاب زدگان کے اندراج کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے انتباہ کیا ہے کہ سیلاب کے نتیجے میں سامنے آنے والا ایک اہم مسئلہ لوگوں کا اپنی شناختی اور دیگر قانونی دستاویزات سے محروم ہو جانا ہے۔ یو این ایچ سی آر کی ترجمان آریان رمری کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دیہی علاقوں میں زمینوں کی حد بندی عموماً درختوں اور نہروں کی مدد سے کی جاتی ہے اور متعدد علاقوں سیلاب کے بعد ان نشانیوں کا وجود نہیں رہا۔

مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایک بڑی تعداد میں متاثرین کی جائیدادوں کی دستاویزات سیلابی ریلے میں بہہ گئی ہیں جس سے لوگوں کو اپنی ملکیت ثابت کرنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG