رسائی کے لنکس

40 لاکھ سیلاب متاثرین عارضی قیام گاہوں میں رہنے پر مجبور

  • حسن سید

40 لاکھ سیلاب متاثرین عارضی قیام گاہوں میں رہنے پر مجبور

40 لاکھ سیلاب متاثرین عارضی قیام گاہوں میں رہنے پر مجبور

عالمی تنظیم کی عہدیدار نے بتایا کہ سیلاب کے بعد ہنگامی امداد کے لیے اقوام متحدہ نے تقریباً دو ارب ڈالر کی جو عالمی اپیل کی تھی اس میں سے اب تک آدھی امداد مل چکی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ آئندہ بحالی اور نو آباد کاری کے لیے مزید عالمی امداد کا حصول بھی ایک چیلنج ہے۔

سیلاب زدہ علاقوں میں امداد کے لیے سر گرم اقوام متحدہ کے اداروں کا کہنا ہے کہ 50 لاکھ کے قریب متاثرین کو چھت فراہم کر دی گئی ہے لیکن چار ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی متاثرہ علاقوں میں 40 لاکھ افراد کو سرچھپانے کے لیےمناسب رہائشی سہولتوں کی فوری طور پر ضرورت ہے۔

بدھ کو اسلام آباد میں اقوام متحدہ کی ایک ترجمان سٹیسی ونسٹن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جن لاکھوں افراد کو ہنگامی چھت کی ضرورت ہے وہ اس وقت عارضی خیموں، سرکاری عمارتوں یا پھر میز بان خاندانوں کے ہاں پناہ لئے ہوئےہیں۔

انہوں نےکہا کہ امدادی اداروں نے سردی میں اضافے کے پیش نظر اپنی سرگرمیاں تیز سے تیز تر کر دی ہیں تاکہ متاثرین کورہائش کے ساتھ ساتھ کمبل، گرم کپڑے اور دیگر ضروری سامان مہیا کر کے انہیں سخت سردی سے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

سٹیسی ونسٹن

سٹیسی ونسٹن

سٹیسی نے اس امر پر تشویش کا اظہارکیا کہ اب بھی بہت سے علاقوں خاص طور پر صوبہ سندھ کے ضلع جامشورو اور دادو میں سیلابی پانی کھڑا ہے اور لوگوں کو بدستور سنگین مشکلات درپیش ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ قدرتی آفت کے اثرات بتدریج ظاہر ہو رہے ہیں اوریہ بحران جلد ختم ہونے کا امکان نہیں۔

عالمی تنظیم کی عہدیدار نے بتایا کہ سیلاب کے بعد ہنگامی امداد کے لیے اقوام متحدہ نے تقریباً دو ارب ڈالر کی جو عالمی اپیل کی تھی اس میں سے اب تک آدھی امداد مل چکی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ آئندہ بحالی اور نو آباد کاری کے لیے مزید عالمی امداد کا حصول بھی ایک چیلنج ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین کو رہائش کے ساتھ ساتھ سانس کی بیماروں سے تحفظ فراہم کرنا دوسرا بڑا چیلنج ہے۔عالمی ادارہ صحت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سانس کی بیماریوں کا شکار افراد کے لیے ملک کے 44 متاثرہ اضلاع میں 60 سے زیادہ خصوصی مراکزقائم کرنے کے منصوبے پر بھی تیزی سے کام ہو رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG