رسائی کے لنکس

’تعمیر نو میں عالمی برادری کا مالی تعاون سست روی کا شکار‘

  • یاسر منصوری

’تعمیر نو میں عالمی برادری کا مالی تعاون سست روی کا شکار‘

’تعمیر نو میں عالمی برادری کا مالی تعاون سست روی کا شکار‘

گزشتہ سال سیلاب کے باعث پاکستان کے کل رقبے کا 20 فیصد حصہ زیر آب آ گیا تھا، جس کی وجہ سے ملک بھر میں لگ بھگ دو کروڑ افراد متاثر ہوئے جب کہ 16 لاکھ مکانات تباہ ہو گئے۔ متاثرہ افراد کی اکثریت کا ذریعہ معاش زراعت تھا اور اس شعبے کو ہونے والے نقصانات کا تخمینہ پانچ ارب ڈالر سے زائد لگایا گیا ہے۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کے لیے عالمی برادری کی جانب سے مالی تعاون کی فراہمی سست روی کا شکار ہے۔

پاکستان کی تاریخ کے بدترین سیلاب کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر جمعرات کو اسلام آباد میں عالمی تنظیم کے مختلف اداروں کے اعلیٰ عہدے داروں نے ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ اس قدرتی آفت کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے جہاں حکومت نے موثر اقدامات کیے وہیں امداد اور بحالی کے عمل میں اقوام متحدہ اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی ایلچی رؤف سئوے سل (Rauf Engin Soysal) نے کہا ہے کہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کا مقابلہ پاکستانی عوام نے جس بہادری سے کیا وہ قابل تحسین ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ سیلاب کے بعد عالمی برادری نے ہنگامی بنیادوں پر پاکستان میں متاثرین کی جس فراغ دلانہ انداز میں مدد کی اقوام متحدہ کا ادارہ اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے لیکن اُن کے بقول ایک سال بعد تعمیر نو کے ابتدائی مرحلے میں عالمی برادری کا تعاون سست روی کا شکار ہے۔

رئوف سئوے سل

رئوف سئوے سل

’’عالمی برادری کو پاکستانی عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔‘‘

اس موقع پر آفات سے نمٹنے کے لیے قومی ادارے ’این ڈی ایم اے‘ کے چیئرمین ظفر اقبال قادر نے کہا کہ حالیہ دونوں میں شائع ہونے والی خبروں میں سیلاب زدگان کی بحالی اور اس سال مون سون کے دوران کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں کے حوالے سے حکومت پر تنقید کی گئی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ خبریں کسی حد تک درست ہو سکتی ہیں لیکن ان میں مکمل صداقت نہیں۔

ظفر اقبال قادر کا کہنا تھا کہ سیلاب کے باعث نقل مکانی کرنے والوں میں سے 99 فیصد اپنے علاقوں کو لوٹ چکے ہیں، جب کہ تقریباً 20 لاکھ ایسے خاندان جنھیں معاوضے کی ادائیگی ہونا تھی ان میں سے لگ بھگ 17 لاکھ کو رقوم فراہم کی جا چکی ہیں۔

این ڈی ایم اے کے چیئرمین نے بتایا کہ رواں سال بارشوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی کسی ہنگامی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے ضلع کی سطح پر انتظامات کیے گئے ہیں اور بوقت ضرورت صوبائی اور وفاقی ادارے میں اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

سیلاب زدگان کی ہنگامی امداد کے لیے اقوام متحدہ نے گزشتہ سال تقریباً دو ارب ڈالرز کی عالمی اپیل کی تھی اور اب تک مختلف ممالک اور تنظیموں کی جانب سے لگ بھگ 70 فیصد رقم فراہم کرنے کی یقین دہانیاں کرائی جا چکی ہیں۔اقوام متحدہ کے عہدے دار بقیہ 60 کروڑ ڈالرز کی بھی جلد فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ تعمیر نو کے ابتدائی مرحلے کے منصوبوں پر جلد از جلد عمل درآمد کیا جا سکے۔

مزید برآں عالمی ادارہ برائے خوراک و زراعت نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے شدید متاثرہ 14 اضلاع میں بحالی کے ابتدائی مرحلے کے پروگرام کے سلسلے میں آئندہ دو سالوں کے دوران زراعت سے وابستہ چار لاکھ 30 ہزار اضافی خاندانوں کو امداد کی فراہمی کے لیے اسے مزید نو کروڑ 60 لاکھ ڈالرز درکار ہیں۔

روم میں قائم عالمی ادارہ ایف اے او نے ایک بیان میں کہا کہ وہ گزشتہ سال پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد سے نو کروڑ 20 لاکھ ڈالر مالیت کے منصوبوں پر عمل درآمد کر چکا ہے جن میں گندم، مکئی، چاول اور دوسری سبزیوں کی کاشت میں چھوٹے کسانوں کی معاونت کے علاوہ مویشیوں کے بچاوٴ اور آبپاشی کے نظام کی بحالی شامل ہیں۔

ایک روز قبل جاری کیے گئے بیان کے مطابق ایف اے او کے منصوبوں کی مدد سے 70 لاکھ افراد پر مشتمل تقریباً نو لاکھ خاندان دوبارہ اپنے پاوٴں پر کھڑے ہو چکے ہیں۔ لیکن عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ ان کامیابیوں کے باوجود سیلاب سے متاثرہ دیہاتوں میں لاکھوں خاندانوں کے ذریعہ معاش کی بحالی کے لیے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

’تعمیر نو میں عالمی برادری کا مالی تعاون سست روی کا شکار‘

’تعمیر نو میں عالمی برادری کا مالی تعاون سست روی کا شکار‘

ایک سال قبل شمالی اور وسطی علاقوں میں مون سون بارشوں کے باعث پاکستان کو اپنی 63 سالہ تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑا جس سے ملک کے کل رقبے کا 20 فیصد زیر آب آ گیا۔

گو کہ اس غیر معمولی قدرتی آفت کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد نسبتاً کم رہی لیکن سیلاب کے باعث ملک بھر میں لگ بھگ دو کروڑ افراد متاثر ہوئے جب کہ 16 لاکھ مکانات تباہ ہو گئے۔

متاثرہ افراد کی اکثریت کا ذریعہ معاش زراعت تھا اور اس شعبے کو ہونے والے نقصانات کا تخمینہ پانچ ارب ڈالر سے زائد لگایا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG