رسائی کے لنکس

اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق ذیلی ادارے، یونیسف، نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کو آئندہ چھ ماہ کے دوران صاف پانی اور حفظان صحت کی دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے اسے ایک کروڑ 54 لاکھ ڈالر کی ہنگامی امداد درکار ہے۔

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے ’این ڈی ایم اے‘ کے اعداد و شمار کے مطابق صوبہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 422 ہو گئی ہے جب کہ لگ بھگ تین ہزار افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

این ڈی ایم اے کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جا رہا ہے اور مختلف علاقوں میں پانچ سو سے زائد امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں لگ بھگ تین لاکھ افراد مقیم ہیں۔

دریں اثنا اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق ذیلی ادارے، یونیسف، نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیلاب متاثرین کو آئندہ چھ ماہ کے دوران صاف پانی اور حفظان صحت کی دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے اسے ایک کروڑ 54 لاکھ ڈالر کی ہنگامی امداد درکار ہے۔

یونیسف کے اسلام آباد میں ترجمان سمیع ملک نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اپنی تنظیم کے امدادی کارروائیوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ مختلف اضلاع میں روزانہ ایک لاکھ 83 ہزار سیلاب متاثرین کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

ترجمان سمیع ملک نے بتایا کہ قدرتی آفات سے سب سے زیادہ بچے ہی متاثر ہوتے ہیں اور 15 اضلاع میں ابتدائی اندازوں کے مطابق 28 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں چودہ لاکھ بچے ہیں۔

تاہم سرکاری ادارے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد لگ بھگ 45 لاکھ ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق متاثرہ علاقوں میں 15 لاکھ سے زائد گھر جزوی جب ایک لاکھ سے زائد مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں اور آٹھ لاکھ ایکڑ رقبے پر فصلوں کو نقصان پہنچا۔

متاثرہ علاقوں بالخصوص صوبہ سندھ میں سیلاب زدہ اضلاع کے کاشتکاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے انھیں فوری طور پر مالی امداد فراہم کی جائے تاکہ سیلابی پانی اترنے کے بعد وہ آئندہ موسم کی فصلیں کاشت کر سکیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ہونے والی تباہی کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے کیا جا رہا ہے جس کے بعد بحالی کے کاموں کا آغاز کیا جائے گا۔
XS
SM
MD
LG