رسائی کے لنکس

سیلاب زدہ علاقوں میں اسہال اور ملیریا کی بیماریوں میں اضافہ

  • یاسر منصوری

اقوام متحدہ نے انتباہ کیا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں دست و اسہال اور ملیریا کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے تدارک کے لیے انتہائی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ایک ماہ سے جاری سیلاب کی تباہ کاریوں کے دوران اب تک تقریباً 37 لاکھ افراد کو طبی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں لیکن متاثرہ علاقوں میں آلودہ پانی کے استعمال اور صفائی ستھرائی کی ناقص صورتحال کی وجہ سے وبائی امراض پھوٹنے کے خطرات بدستور موجود ہیں۔

ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب سے 1,600 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں لیکن حکام خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ زیر آب علاقوں میں ٹھہرے ہوئے پانی اور ایسے حالات میں افزائش پانے والے مچھروں سے ممکنہ طور پر جان لیوا بیماریاں پھیل سکتی ہیں جن سے اس قدرتی آفت میں ہونے والے جانی نقصانات خاصی حد تک بڑھ سکتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی ترجمان ڈاکٹر گل آفریدی نے پیر کے روز دارالحکومت اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ عالمی ادارہ اب تک صوبہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختون خواہ میں اسہال کا شکار مریضوں کے لیے 70 طبی مراکز قائم کر چکا ہے اور ان صوبوں سمیت بلوچستان میں 43 مزید مراکز پر کام جاری ہے۔

ڈاکٹر گل آفریدی

ڈاکٹر گل آفریدی

اقوام متحدہ کے مطابق ملک بھر میں سیلاب زدہ اضلاع میں ایک ہزار سے زائد طبی مراکز میں سے لگ بھگ چار سو کو جزوی نقصان پہنچا ہے جب کہ پاکستانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ خواتین کو بنیادی طبی سہولیات فراہم کرنے والی 35,000 کارکنوں سمیت طبی عملے کی ایک بہت بڑی تعداد متعلقہ علاقے چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئی ہے اور متاثرہ علاقوں میں ان کی اشد کمی محسوس کی جا رہی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی ترجمان نے بتایا کہ ان کا ادارہ ملک میں حال ہی میں فارغ التحصیل ہوئے آٹھ سو ڈاکٹروں کو تربیت فراہم کر رہا ہے تا کہ وہ سیلاب زدہ علاقوں میں رضا کارانہ طور پر خدمات سر انجام دے سکیں۔

ادھر بین الاقوامی امدادی ادارے اوکسفیم کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی حصوں میں ہنگامی امداد کے ساتھ ساتھ ایسے علاقوں جہاں سے پانی اتر گیا ہے، میں تعمیرنو کے منصوبوں پر بھی توجہ دینی چاہیئے۔ اوکسفیم کی ترجمان کلیری سیوارڈ (Claire Seaward)نے بتایا کہ بحالی کا عمل مکمل کرنے کے لیے کئی سالوں کا عرصہ درکار ہوگا۔

XS
SM
MD
LG