رسائی کے لنکس

سینہ بہ سینہ سفر کرتی لوک موسیقی کو محفوظ بنانے کی ضرورت


لالو جی بھیل اور ہزاری لعل

لالو جی بھیل اور ہزاری لعل

گزشتہ دہائیوں کی نسبت میلوں کا رواج اور ان کا انعقاد بہت کم ہوگیا ہے ایسے میں ان روایتی لوک فنکاروں کے شب وروز کیسے گزر رہے ہیں۔ لالوجی نے بتایا”شکر ہے مالک کا پورے پاکستان میں گھومتے ہیں ، اب بھی میلے ہوتے ہیں وہاں جاتے ہیں، لوگ ہمیں شادی بیاہ پر بھی بلاتے ہیں۔ خرچہ پانی کے علاوہ انعام بھی دیتے ہیں تو بس روزی مل رہی ہے۔“

دنیا بھر میں ہر سال 21جون کو موسیقی کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد موسیقی کے ذریعے امن و محبت کے پیغام کو فروغ دینا اور اس فن سے وابستہ افراد اور ان کے فن کو اجاگر کرناہے۔

پاکستان میں کلاسیکی، روایتی، لوک اور جدیدموسیقی کے تمام ہی شعبے موجود ہیں مگر فی زمانہ چند شعبے اور ان سے وابستہ افرادبدستور زوال کا شکار ہیں۔ ان میں کلاسیکی موسیقی سمیت لوک موسیقی شامل ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم ’ادارہ برائے تحفظ فن و ثقافت‘ کے سربراہ عمیرجعفر نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے اس کی وجہ کچھ یوں بیان کی۔”ایک طرف جہاں کلاسیکی موسیقی کو جو مقام دیا جانا چاہیے تھا وہ نہیں ملا اس ملک میں دوسرالوک موسیقی جو کہ ثقافت کا حصہ ہے اس سے وابستہ لوگوں کی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے یہ بھی آہستہ آہستہ دم توڑتی جارہی ہے۔“

لوک موسیقی، گیت اور داستانیں سینہ بہ سینہ سفر کرتی ہیں۔ اس دور جدید کی تیز رفتار زندگی کے ”مصروف“ لوگوں کے پاس اب شاید اتنا وقت نہیں رہا کہ وہ اس مسحور کن روایات کی طرف دھیان دے سکیں۔بہت سے لوک ساز یا تو ناپید ہوچکے ہیں یا پھر ان کی تعداد اتنی کم رہ گئی ہے کہ یہ انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔شاید ہی کوئی وادی سندھ کے ساز بوریندو اور چَنگ سے متعلق واقفیت رکھتا ہو۔ پکھاوج، نقارے، اور ایسے ہی کئی روایتی ساز بھی اب خال خال ہی سنائی اور دکھائی دیتے ہیں۔

سندھ کے شہنائی نواز

سندھ کے شہنائی نواز

رواں ماہ اسلام آباد میں لوک ورثہ کے زیر اہتمام ایک میلے میں مقامی اور خصوصاً غیر ملکیوں کوپاکستانی فن وثقافت سے روشناس کرانے کا موقع فراہم کیا۔ لوک میلے میں چولستان سے آئے ہوئے فنکاروں میں لالو جی بھیل اور ان کے ساتھی بھی شامل تھے۔

پاکستان میں ریگستانی علاقہ صوبہ پنجاب کے جنوب میں بہاولپور سے شروع ہوکر سندھ میں تھر تک پھیلا ہوا ہے۔ان ریگ زاروں کی ثقافت علاقے کی طرح خشک اور بنجر ہرگز نہیں ۔ اس کا اندازہ لالوجی بھیل اور ان کے ہمنواؤں کو دیکھ کر ہوا۔ چولستانی لباس اور اس خطے میں بولی جانے والی زبانوں کے گیت اور روایتی سازوں پر محورقص ہزاری لعل اور کبوتر بھیل ہیں تو مرد لیکن ریگستانی عورتوں کا روپ دھارن کیے ہوئے ہیں۔

لا لو جی بھیل اپنے گروپ میں مختلف ساز بجانے کے ساتھ ساتھ گاتے بھی ہیں۔”میں نے اپنے استاد لِکھا جی بھیل سے یہ ساز بجانا سیکھے۔ تنبورہ،اکتارا،مزیرے، رانتی اور چپڑی بجا لیتا ہوں۔ سندھی، پنجابی، سرائیکی اور مارواڑی زبانوں کے گیت بھی گاتا ہوں۔“

رانتی اور چپڑی ان علاقوں کے مخصوص ساز ہیں۔ رانتی سارنگی کی طرح کا ایک ساز ہوتا ہے جب کہ دو چھوٹی چپٹی لکڑیوں کو ملا کر بجایا جانے والا ساز چپڑی کہلاتا ہے۔

گزشتہ دہائیوں کی نسبت میلوں کا رواج اور ان کا انعقاد بہت کم ہوگیا ہے ایسے میں ان روایتی لوک فنکاروں کے شب وروز کیسے گزر رہے ہیں۔ لالوجی نے بتایا”شکر ہے مالک کا پورے پاکستان میں گھومتے ہیں ، اب بھی میلے ہوتے ہیں وہاں جاتے ہیں، لوگ ہمیں شادی بیاہ پر بھی بلاتے ہیں۔ خرچہ پانی کے علاوہ انعام بھی دیتے ہیں تو بس روزی مل رہی ہے۔“



لالو جی بھیل کے علاوہ یہاں ملک کے دیگر علاقوں سے آئے ہوئے فنکار بھی تھے جن سے گفتگو میں یہ بات معلوم ہوئی کہ سبھی لوک فنکار زمانے کی ناقدری پر نالاں ہیں۔

عمیر جعفر کا کہنا تھا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے تو یہ معلوم کیا جائے کہ پاکستان میں کتنے ساز ، سازندے اور لوک گلوکار موجود ہیں اور پھر ان کی فلاح و بہبود کے لیے کام کیا جائے تاکہ اس ورثے کو آنے والی نسلوں کے لیے بچایا جاسکے۔

XS
SM
MD
LG