رسائی کے لنکس

قیمتوں میں اضافے کے باعث گذشتہ سال گندم کی کھپت میں دس فیصد کمی

  • ب

دو سال قبل آنے کے بحران نے عوام کی زندگی دو بھر کردی تھی

دو سال قبل آنے کے بحران نے عوام کی زندگی دو بھر کردی تھی

عالمی ادارہ خوراک WFPنے اپنی ایک تازہ جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں پچھلے ایک سال کے دوران اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں سو فیصد اضافہ ہونے کے باعث عام لوگوں کی قوت خرید بری طرح متاثر ہوئی ہے کیونکہ ان کی آمدنی میں اضانے کی شرح بہت کم رہی۔

وائس آف امریکہ سے ایک خصوصی انٹرویو میں ڈبلیو ایف پی کے سینئر عہدیدار صاحب حق نے کہا کہ قوت خرید کمزور پڑنے کی وجہ سے پچھلے ایک سال کے دوران ملک میں 131اضلاع میں کیے گئے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گندم کی کپھت میں اس دوران دس فیصد کمی رہی ۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی 48فیصدسے زائد آبادی کو پہلے ہی خوراک کی قلت کا سامنا ہے اور ایسے میں گندم جیسی بنیادی خوراک میں کمی ایک تشویشناک صورتحال کی غمازی کرتی ہے۔

صاحب حق نے کہا کہ آمدنی میں اضافہ نہ ہونا اور افراط زر کی بڑھتی ہوئی شرح کے باعث اشیائے خوردنی لوگوں کی دسترس سے باہر ہوتی جارہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان گندم پیدا کرنے والا ایک بڑا ملک ہے اس لیے یہاں پر اس کی قیمت بین الاقوامی منڈی سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے تاکہ خوراک کا یہ بنیادی جزو لوگوں کی پہنچ میں رہے۔

انھوں نے کہا کہ مہنگائی بڑھنے کے باعث لوگوں کی قوت خرید میں کمی کی وجہ سے وہ جرائم کی طرف راغب ہوتے ہیں اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے وہ غیر قانونی راستے اختیار کرتے ہیں۔

پاکستان میں پچھلے دو سال کے دوران گندم اور آٹے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ۔ اس کی ایک بڑی وجہ حکومت کی طرف سے کسان کو گندم کی ادا کی جانے والی قیمت میں اضافہ بھی ہے تاہم وفاقی وزارت خوراک کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ گندم کی قیمتوں میں اضافے کا مقصد جہاں اس فصل کی کاشت کے لیے کسانوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے وہیں اس سے گندم کی بیرون ملک سمگلنگ کی حوصلہ شکنی کرنا بھی شامل ہے۔

سرکاری عہدیداروں کا ماننا ہے کہ قیمت میں اضافے کے باعث اس وقت ملک میں گندم کے کافی ذخائر موجود ہیں تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مارکیٹ میں آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے عام آدمی بلاشبہ مشکلات کا شکار ہے جسے دور کرنے کے لیے حکومت مختلف منصوبوں پر کام کررہی ہے۔

پاکستانی حکومت اور عالمی ادارہ خوراک کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی کارروائیوں سے متاثر ہونے والے علاقوں میں خوراک کی عدم فراہمی بھی صورتحال کی سنگینی میں اضافے کا باعث ہے جن میں صوبہ خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقے سرفہرست ہیں۔

XS
SM
MD
LG