رسائی کے لنکس

ڈاکٹر شوکت حمید خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ ان مقابلوں کا مقصد 2050 کے لیے روبوٹس کی ایسی ٹیمیں تیار کرنا ہے جو کہ اس وقت کی عالمی چمپئینز کے ساتھ مقابلہ کریں۔

فٹبال کے حوالے سے پاکستان کے لیے ایک اور خوش خبری یہ ہے کہ گیند بنانے کے علاوہ اب برازیل میں ہونے والے ورلڈ کپ میں پاکستانی روبوٹس کی ٹیم کو بھی کھیلنے کی دعوت مل گئی۔

ان مقابلوں میں اسلام آباد کے سنٹر فار ایڈوانس اسٹڈیز ان انجینئیرنگ (سی اے ایس ای) کے طالب علموں کے بنائے ہوئے چھ روبوٹس کو بھیجنے کا ارادہ کیا گیا ہے۔

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے زیر انتظام ہونے والے ورلڈ کپ 2014 کے موقع پر جولائی میں برازیل ہی میں چھوٹی ساخت کے روبوٹس کے ’’روبو ورلڈ کپ‘‘ نامی مقابلے ہو رہے جس میں مختلف ملکوں سے 33 ٹیمیں شرکت کریں گی۔

سی اے ایس ای کے وائس چانسلر ڈاکٹر شوکت حمید خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ ان مقابلوں کا مقصد 2050 کے لیے روبوٹس کی ایسی ٹیمیں تیار کرنا ہے جو کہ اس وقت کی عالمی چمپیئنز کے ساتھ مقابلہ کریں۔

’’ارادہ یہ ہے کہ روبوٹس انسان کی طرح پاؤں، ہاتھ رکھتے ہوں۔ بال کو دیکھ سکیں، پاس اور ڈاج کر سکیں اور انسانوں کی ٹیم کو ہرانا ہے۔ ابھی 36 سال ہیں۔ ہماری ٹیم بھی اس میں ہوگی۔ 21ویں صدی میں سائنس اور سوسائٹی میں ایک نیا رشتہ بن رہا ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ایک روبوٹ چار لاکھ روپے سے تیار ہوا اور یہ اخراجات ادارے کے طالب علموں نے مختلف تحقیقی پراجیکٹس سے حاصل ہونے والی رقم سے پورے کئے۔

پہلی مرتبہ پاکستان نے ان مقابلوں کے لیے کوالیفائی کیا ہے اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سابق سینئیر عہدیدار ڈاکٹر شوکت حمید کا کہنا تھا کہ یہ موقع ملک کے لئے باعث عزت ہے۔

’’ہماری اسٹریٹ چائلڈ ٹیم گئی اس کا بہٹ اثر ہوا۔ فٹ بال ملک میں آئے گا۔ چلیے ٹیم تو نہیں جارہی مگر روبوٹ جائیں گے اس سے کھیل کو فروغ ملے گا۔ ہم ہارتے ہیں، جیتے ہیں کوئی پتہ نہیں مگر کھیل کا مزا تو یہ ہے کہ کھیلو۔‘‘

تقریباً ایک دہائی سے عائد پابندی کے بعد رواں سال برازیل میں ہونے والے فٹبال کے عالمی مقابلوں میں پاکستان میں تیار گیند استعمال ہوگا۔ پاکستان پر پابندی کی وجہ سیالکوٹ شہر میں فٹبال بنانے کی صنعت میں بچوں سے مشقت تھی جس پر اقوام متحدہ، امریکہ اور دیگر اداروں کے تعاون سے چلائے گئے پراجیکٹ کے تحت قابو پالیا گیا ہے۔

سنٹرفار ایڈوانس اسٹڈیز ان انجینئیرنگ کے وائس چانسلر نے تاہم اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے روبوٹ ٹیم عالمی مقابلوں میں شاید شرکت نا کر پائے۔

’’حکومت کی طرف سے تو ہمیں پہلے سے نا ہوگئی اب نجی شعبے سے کوئی اسپانسر شپ حاصل کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ کچھ بچوں کے ٹکٹ مل جائیں، رہنے کا بندوبست ہوجائے۔ سب سے بڑی بات وہاں جا کر سیکھیں گے۔ ہم دیکھیں گے کہ ہم سے بہتر کون ہیں اور کیوں ہیں۔‘‘

تاہم نواز شریف انتظامیہ میں شامل عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں کہ ملک میں تعلیم و ٹیکنالوجی کی ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس کے لیے ویژن 2025 نامی طویل المدت منصوبے کا اعلان کیا گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG