رسائی کے لنکس

پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ رمیشن ونکوانی نے منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اگر صوبائی حکومت کسی دباؤ میں آکر اس قانون کو تبدیل کرتی ہے تو اس سے اقلیتوں کے لیے صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں ہندو برادری نے غیرمسلموں کے تحفظ کے لیے حال ہی میں سندھ اسمبلی سے منظور ہونے والے مسودہ قانون میں ترمیم یا اس کی منسوخی سے متعلق خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے کسی بھی قدم سے اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھے گا۔

گزشتہ ماہ کے اواخر میں سندھ اسمبلی نے یہ مسودہ قانون منظور کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کوئی کم عمر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے مذہب تبدیل کر لیا ہے تو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا لیکن اس بچے کے والدین یا کفیل اپنے خاندان کے ہمراہ مذہب تبدیل کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

اس کا مقصد خاص طور پر صوبہ سندھ میں کم عمر ہندو لڑکیوں کے اغوا اور پھر قبول اسلام جیسے واقعات کا تدارک ہے۔

جبری تبدیلی مذہب کے لیے قید کی سزائیں اور جرمانے بھی تجویز کیے گئے تھے۔

تاہم بعض مذہبی حلقوں کی طرف سے اس شق سمیت بل کی بعض دیگر شقوں کو خلاف اسلام قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ملک میں اسلامی تعلیمات کے خلاف کسی بھی طرح کی قانون سازی نہیں کی جا سکتی۔

اس کے بعد یہ خبریں آئی تھیں کہ سندھ حکومت اس بل پر نظرثانی کے لیے غور کر رہی ہے۔

پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ اور رکن قومی اسمبلی رمیشن ونکوانی نے منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اگر صوبائی حکومت کسی دباؤ میں آکر اس قانون کو تبدیل کرتی ہے تو اس سے اقلیتوں کے لیے صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔

"جب ہم 18 سال سے کم عمر بچے کو شادی کا اختیار نہیں دیتے، ڈرائیونگ کا اختیار نہیں دیتے، ووٹ ڈالنے کا اختیار نہیں دیتے تو پھر 18 سال سے کم عمر بچے کو تبدیلی مذہب کا اختیار کیسے دے رہے ہیں۔۔۔میں یہ کہتا ہوں کہ اگر کوئی اچھی چیز ہوئی ہے تو اس کو واپس اگر لیں گے تو پھر مشکل ہو گی۔"

سندھ حکومت کے سینیئر وزیر نثار کھوڑو کی طرف سے حال ہی میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ اس بل میں پائے جانے والے ابہام کو دور کیا جائے گا۔ ان کے بقول 18 سال عمر شادی کے لیے رکھی گئی ہے جب کہ اسلام میں چونکہ جبر نہیں ہے اس لیے مذہب کی تبدیلی سے متعلق عمر کا تعین کرنے سے قانون سے متعلق ابہام جنم لے رہے ہیں۔

رمیش ونکوانی کہتے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں ابہام دور کرنے کے لیے سندھ میں برسراقتدار جماعت پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری سے کہیں گے کہ وہ ایک کل جماعتی کانفرنس بلائیں اور ان کی بات سنی جائے۔

"میں انھیں قائل کروں گا دنیا کے قانون بتاؤں گا، پاکستان ہی صرف اسلامی ملک نہیں ہے دنیا میں انڈونیشیا بھی ہے، ترکی بھی ہے ملائیشیا اور بنگلہ دیش بھی ہے ان سب ملکوں کا ہم حوالہ دے سکتے ہیں کہ کہیں بھی ایسے نہیں ہے۔"

پاکستان میں غیر مسلموں کی طرف سے اکثر و بیشتر امتیازی سلوک کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں اور حالیہ برسوں میں ایسے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں کہ جن میں سیکڑوں کی تعداد میں خاص طور پر سندھ میں آباد ہندو برادری کے لوگ نقل مکانی کر کے بھارت چلے گئے۔

تاہم صوبائی اور مرکزی حکومتوں کا کہنا ہے کہ وہ اقلیتوں کو حاصل آئینی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG