رسائی کے لنکس

پاکستان کی سعودی عرب میں فوجی مشقوں میں شرکت کی تصدیق


فائل فوٹو

فائل فوٹو

بیان کے مطابق تربیت کے پروگراموں کے تحت متعدد فوجی سعودی عرب بھیجے جاتے ہیں جب کہ سعودی مسلح افواج کے اہلکار پاکستان میں بھی تربیت حاصل کرتے ہیں۔

پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب میں 20 ممالک کی مشترکہ مشقوں میں اس کے فوجی بھی شامل ہیں اور یہ دو طرفہ دفاعی تعاون کے معاہدے کا حصہ ہے۔

سعودی عرب نے اتوار کو کہا تھا کہ اس کے ہاں 20 ممالک کی فوجوں کی مشترکہ مشقیں میں ہونے جا رہی ہیں جنہیں "رعد الشمال" یعنی شمال کی گھن گرج کا نام دیا گیا ہے۔ تاہم اس کی مزید تفصیل سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

پیر کو دیر گئے پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اور سعودی عرب دفاعی شعبے میں کئی دہائیوں سے تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں جس میں فوجی مشقوں کے علاوہ تربیت کا عمل بھی شامل ہے۔

بیان کے مطابق تربیت کے پروگراموں کے تحت متعدد فوجی سعودی عرب بھیجے جاتے ہیں جب کہ سعودی مسلح افواج کے اہلکار پاکستان میں بھی تربیت حاصل کرتے ہیں۔

مزید برآں دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ معاہدے کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کا ایک چھوٹا دستہ سعودی عرب میں تعینات ہے۔

سعودی عرب نے گزشتہ سال ہی دہشت گردی کے خلاف 34 سے زائد اسلامی ممالک کے اتحاد کے قیام کا اعلان کیا تھا اور ان فوجی مشقوں میں ان ہی ممالک کی افواج حصہ لے رہی ہیں۔

گزشتہ اکتوبر میں پاکستان اور سعودی عرب کے فوجیوں کی مشترکہ مشق جہلم کے قریب ہوئی تھی جو کہ انسداد دہشت گردی کی تربیت پر مبنی تھی۔

سعودی عرب اپنے پڑوسی ملک یمن میں گزشتہ سال سے شیعہ حوثی باغیوں کے خلاف بھی عسکری کارروائیوں کی قیادت کر رہا ہے جب کہ حال ہی میں اس نے داعش کے خلاف شام میں امریکہ کی زیر قیادت زمینی فوج بھیجنے کی پیشکش بھی کی ہے۔

پاکستان نے اسلامی ممالک کے اتحاد کا خیر مقدم تو کیا تھا لیکن اس کا موقف رہا ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک میں لڑائی کے لیے اپنی فوجیں نہیں بھیجے گا اور اس اتحاد میں اس کے کردار کی جزیات پر بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔

تاہم پاکستان کا اصرار ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اور جغرافیائی سالمیت کو درپیش کسی بھی خطرے کی صورت میں وہ اس کا بھرپور جواب دے گا۔

XS
SM
MD
LG