رسائی کے لنکس

خیبر ایجنسی:فضائی کارروائی میں پانچ شدت پسند ہلاک


بتایا جاتا ہے کہ مرنے والے شدت پسندوں میں ایک روز قبل جمرود کے علاقے میں انسداد پولیو مہم کے رضاکاروں کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں پر ہلاکت خیز حملہ کرنے والے عسکریت پسند شامل ہیں۔

افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے مشتبہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی اور اس میں کم از کم پانچ شدت پسند ہلاک ہوگئے ۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق اتوار کی صبح تحصیل باڑہ کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور اس دوران ان کے زیر استعمال اسلحے کے ذخیرے کو بھی تباہ کر دیا گیا۔

ہدف بنائے گئے ٹھکانوں میں ملا طمانچی کا ایوبی مرکز بھی شامل ہے جب کہ سپاہ بانڈے کس اور یوسف تالاب کے علاقوں میں بھی فضائی کارروائی کی گئی۔

بتایا جاتا ہے کہ مرنے والے شدت پسندوں میں ایک روز قبل جمرود کے علاقے میں انسداد پولیو مہم کے رضاکاروں کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں پر ہلاکت خیز حملہ کرنے والے عسکریت پسند شامل ہیں۔

ہفتہ کو گاؤں لاشوڑا میں شدت پسندوں نے دستی بموں سے حملہ کرکے کم ازکم 11 اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔

اتوار کو سکیورٹی فورسز کی تازہ کارروائی ایک ایسے وقت کی گئی جب ایک روز قبل ہی کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے ایک ماہ کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔

حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل شدت پسندوں کی جاری کارروائیوں کی وجہ سے گزشتہ ماہ تعطل کا شکار ہوگیا تھا اور حکومت کا اصرار تھا کہ شدت پسند یکطرفہ طور پر فائر بندی کریں تو ہی بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھ سکتا ہے۔

خیبر ایجنسی میں متعدد شدت پسند گروہوں نے اپنی محفوظ پناہ گاہیں قائم کر رکھی ہیں جن کے خلاف سکیورٹی فورسز کارروائیاں کرتی رہتی ہیں۔

گزشتہ ماہ ہی جیٹ طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے باڑہ اور وادی تیراہ میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی اور اس میں متعدد شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

ادھر خیبر پختونخواہ کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں ایک حجرے پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی جس سے دو افراد زخمی ہوگئے۔ جوابی فائرنگ میں کالعدم شدت پسند تنظیم کا ایک کمانڈر ہلاک ہو گیا۔
XS
SM
MD
LG