رسائی کے لنکس

زلزلہ زدہ علاقوں میں بارشوں اور برف باری کی پیش گوئی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے "این ڈی ایم اے" کے ترجمان احمد کمال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دو نومبر سے ملک کے شمالی علاقوں بشمول زلزلہ متاثرہ علاقوں میں کم اور درمیانے درجے کی بارش اور برفباری کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

پاکستان کے شمالی علاقوں میں پیر سے شروع ہونے والی بارش اور برفباری کی پیش گوئی سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بسنے والے افراد کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا خاص طور پر ان خاندانوں اور افراد کے لیے صورت حال مزید سنگین ہو جائے گی جن تک امداد ابھی تک نہیں پہنچ پائی ہے۔

26 اکتوبر کو پاکستان کے شمالی اور افغانستان کے شمال مشرقی علاقوں میں آنے والے 7.5 شدت کے زلزلے سے سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں گھر تباہ ہو گئے۔

پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ زیادہ تر علاقے دشوار گزار پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہیں اور حکام ان علاقوں تک امدادی سامان کی ترسیل کے لیے ہیلی کاپٹر بھی استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن حکام کے بقول اب بھی چند ایک مقامات ایسے ہیں جہاں امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس تناظر میں ایسے علاقوں میں پھنسے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جب کہ ماہرین صحت پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ سردی کی شدت سے ان علاقوں میں بیماریاں پھیلنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے "این ڈی ایم اے" کے ترجمان احمد کمال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دو نومبر سے ملک کے شمالی علاقوں بشمول زلزلہ متاثرہ علاقوں میں کم اور درمیانے درجے کی بارش اور برفباری کی پیش گوئی کی گئی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اس کے پیش نظر پہلے ہی تمام متاثرہ افراد تک سردی اور بارش سے بچاؤ کے لیے ضروری سامان پہنچانے کا انتظام کر لیا گیا ہے۔

"اس تمام صورت حال کو دیکھتے ہوئے تین روز پہلے ہی ہم نے تمام انتظامات مکمل کر لیے ہیں اور خصوصی طور پر گرم کپڑے جن میں چھوٹے بچوں کے گرم کپڑے بھی شامل ہیں اور نمونیا سے بچنے کی ادویات اور سردیوں کے کپڑے کمبلوں سمیت ان کے انتظامات کر لیے گیے ہیں۔"

احمد کمال نے کہا کہ اب زلزلے سے متاثرہ تقریباً تمام افراد تک رسائی ہو چکی ہے تاہم چند ایک دشوار گزار علاقوں میں واقع آبادیوں تک بھی پہنچنے کی ہر مکمن کوشش کی جا رہی ہے۔

گزشتہ پیر کو آنے والے زلزلے سے پاکستان میں تینتیس ہزار گھر تباہ ہو گئے جبکہ پاکستان اور افغانستان میں لگ بھگ چار سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

XS
SM
MD
LG