رسائی کے لنکس

وزارت خارجہ کی طرف سے سرتاج عزیز کے بیان کی وضاحت


ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم

ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم

وزارت خارجہ کی ترجمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی حکمت عملی اور کارروائیوں کو اس کے عزم اور عملی اقدامات کے پیرائے میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ نے منگل کو ایک وضاحتی بیان میں کہا کہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا دہشت گردوں سے متعلق بیان ’تاریخی پس منظر‘ میں تھا۔

واضح رہے کہ وزیراعظم کے مشیر برائے اُمور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان اُن دہشت گردوں کو نشانہ کیوں بنائے جو اس کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔

وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کے دفتر سے منگل کو جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا کہ سرتاج عزیز کا یہ بیان تاریخی پس منظر میں تھا۔

وضاحتی بیان میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ’ضرب عضب‘ شروع کر رکھا ہے جس میں بغیر کسی تفریق نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔

وزارت خارجہ کی ترجمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی حکمت عملی اور کارروائیوں کو اس کے عزماور عملی اقدامات کے پیرائے میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کی عسکری اور سویلین قیادت کی طرف سے تواتر کے ساتھ یہ کہا جا رہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جا رہی ہے۔

عسکری حکام اس تنقید کو بھی رد کرتے آئے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف حالیہ آپریشن میں افغان طالبان کے ’حقانی نیٹ ورک‘ کے خلاف موثر کارروائی نہیں کی گئی۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے وائس آف امریکہ کی اردو سروس سے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں اس بات کی تفریق نہیں کی جا رہی کہ شدت پسندوں کا تعلق کس ملک یا کس گروپ سے ہے۔

فوج نے شمالی وزیرستان میں 15 جون کو آپریشن ضرب عضب شروع کیا تھا جس میں حکام کے مطابق 1100 سے زائد دہشت گرد مارے جا چکے ہیں جن میں غیر ملکی عسکریت پسند بھی شامل ہیں۔

جب کہ اس علاقے سے فرار ہونے والے دہشت گردوں کے خلاف خیبر ایجنسی میں بھی اکتوبر میں ایک آپریشن شروع کیا گیا۔

فوج کے مطابق انٹیلی جنس کی معلومات کی بنیاد پر ملک بھر میں سینکڑوں کارروائیاں کی گئیں جن میں دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا۔

واضح رہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں جہاں اُن کی اعلیٰ امریکی کمانڈروں سے ہونے والی ملاقاتوں میں بھی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کارروائیوں پر بات چیت کی گئی۔

گزشتہ ہفتے ہی افغان صدر اشرف غنی نے بھی پاکستان کا دورہ کیا تھا اور اُن کی پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت سے ہونے والی ملاقاتوں میں بھی مشترکہ دشمن یعنی دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں تعاون پر اتفاق کیا گیا۔

افغان صدر کا کہنا تھا کہ افغانستان میں دہشت گردی سے پاکستان متاثر ہوتا ہے اور اگر پاکستان میں شدت پسندی ہو تو اس کا افغانستان پر بھی پڑتا ہے۔

XS
SM
MD
LG