رسائی کے لنکس

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس، اعزاز چوہدری بھارت جائیں گے

  • عشرت سلیم

اعزاز احمد چوہدری اپنے بھارتی ہم منصب ایس جے شنکر کے ساتھ۔ فائل فوٹو

اعزاز احمد چوہدری اپنے بھارتی ہم منصب ایس جے شنکر کے ساتھ۔ فائل فوٹو

توقع کی جارہی ہے کہ نئی دہلی میں کانفرنس کے موقع پر پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اپنے بھارتی ہم منصب سے بھی ملاقات کریں گے۔

پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری منگل کو نئی دہلی میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔

دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ’’پاکستان ہارٹ آف ایشیا کے اعلیٰ عہدیداروں کے اجلاس میں بھرپور حصہ لینے کا منتظر ہے جو افغانستان میں طویل المدت امن و استحکام کے فروغ میں ہمارے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘

پاکستان نے گزشتہ سال دسمبر میں ہارٹ آف ایشیا کی پانچویں وزارتی کانفرنس کی میزبانی کی تھی۔

پاکستان کے سیکرٹری خارجہ ایسے وقت بھارت کا دورہ کر رہے ہیں جب دونوں ممالک کے تعلقات سردمہری کا شکار ہیں۔

اگرچہ دسمبر میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے موقع پر بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے جامع امن مذاکرات بحال کرنے کا اعلان کیا تھا اور خارجہ سیکرٹری سطح کی پہلی ملاقات جنوری کے وسط میں متوقع تھی، مگر جنوری میں بھارتی فضائی اڈے پٹھان کوٹ پر ہونے والے حملے کے بعد یہ ملاقات مؤخر کر دی گئی تھی۔

بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان میں موجود شدت پسند تنظیم جیش محمد پر عائد کیا تھا۔

رواں ماہ پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں مبینہ طور پر تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ایک بھارتی جاسوس پکڑے جانے کے بعد مذاکرات پر ایک اور سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔

بھارت نے یہ تو تسلیم کیا ہے کہ پکڑا جانے والا شخص بھارتی شہری ہے اور بحریہ کا سابق ملازم ہے مگر اس کے خفیہ اہلکار ہونے کی مکمل تردید کی ہے۔

توقع کی جارہی ہے کہ نئی دہلی میں کانفرنس کے موقع پر پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اپنے بھارتی ہم منصب سے بھی ملاقات کریں گے۔

تجزیہ کار حسن عسکری رضوی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ افغانستان کے حوالے سے ہمیں اس کانفرنس میں کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں تاہم اس موقع پر پاکستان اور بھارت کے عہدیداروں میں کچھ غیر رسمی گفتگو ہو سکتی ہے۔

’’9 دسمبر کو جب ہارٹ آف ایشیا کی اسلام آباد میں کانفرنس ہوئی تھی تو ہندوستان کی وزیر خارجہ آئیں تھیں تو غیر رسمی گفتگو میں فیصلہ ہوا تھا کہ ہندوستان پاکستان کے تعلقات کو بہتر کیا جائے۔ تو ہندوستان پاکستان کے تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے کوئی قدم ہو سکے تو اس کو مثبت سمجھا جائے گا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’فی الحال تو ایسا کوئی اشارہ نہیں ہے۔ کوئی زیادہ امیدیں لگانا تو مشکل ہی ہو گا اس معاملے پر۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ دسمبر میں اسلام آباد میں ہونے والے کانفرنس کے موقع پر کافی جوش و جذبہ پایا جاتا تھا جو اس وقت دیکھنے میں نہیں آ رہا اور نہ ہی پاکستان اور بھارت کے ذرائع ابلاغ نے اس کانفرنس کی وسیع پیمانے پر کوریج کی ہے۔

ان کے بقول اس کی ایک وجہ افغانستان کے معاملے پر امریکہ اور پاکستان کے درمیان حال ہی میں سامنے آنے والا اختلاف رائے ہے۔ گزشتہ ہفتے کابل میں ہونے والے حملے کے بعد امریکہ نے پاکستان سے کہا تھا کہ وہ حقانی نیٹ ورک سمیت تمام شدت پسند گروہوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے۔

XS
SM
MD
LG