رسائی کے لنکس

سابق چیف جسٹس کا سیاسی جماعت بنانے کا اعلان


افتخار محمد چودھری (فائل فوٹو)

افتخار محمد چودھری (فائل فوٹو)

یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے کسی سابق چیف جسٹس نے خود اپنی سیاسی جماعت بنا کر سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنی سیاسی جماعت بنا کر باضابطہ طور پر ملکی سیاسی میں قدم رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

جمعہ کو اسلام آباد میں اپنی جماعت "پاکستان جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی" کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت عدل و انصاف کے ساتھ ساتھ احتساب کو یقینی بنائے گی تاکہ ان کے بقول ملک کے عوام کے مسائل کو حقیقی طور پر حل کیا جا سکتے۔

"عدل ایسا لے کر آئیں گے کہ لوگوں کو پتا چلے کہ انصاف کیسے کیا جاتا ہے۔۔۔۔دوسرا ہمارا جو اصول ہوگا وہ ہوگا احتساب کہ جب ہم لوگ اقتدار میں آئیں گے تو بے رحمانہ احتساب کریں گے۔"

افتخار محمد چودھری دسمبر 2013ء میں ملک کے اٹھارہویں چیف جسٹس کے عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے۔

2007ء میں اس وقت کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے معزول کیے جانے کے بعد انھوں نے نہ صرف اپنے خلاف حکومتی الزامات کو مسترد کیا بلکہ وکلا کے ساتھ مل کر عدلیہ کی آزادی کے نام سے ایک تحریک میں بھی بھرپور حصہ لیا۔

وہ 2009ء میں اپنے عہدے پر بحال ہوئے۔

افتخار چودھری کو بطور چیف جسٹس ایسے معاملات پر از خود نوٹس لینے سے شہرت ملی جن کا تعلق عوامی مسائل یا انتظامیہ کی عدم توجہ یا غفلت سے ہوتا تھا۔

لیکن ساتھ ہی ساتھ انھیں اپنے بیٹے ارسلان افتخار پر لگنے والے بدعنوانی کے الزامات کے باعث شدید تنقید کا بھی سامنا رہا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے کسی سابق چیف جسٹس نے خود اپنی سیاسی جماعت بنا کر سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل سابق جج صاحبان مختلف سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کر کے سیاسی عمل کا حصہ رہ چکے ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ افتخار چودھری کو معزول کرنے پر تنقید کا نشانہ بننے والے فوجی صدر پرویز مشرف نے بھی 2008ء میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد سیاسی جماعت "آل پاکستان مسلم لیگ" بنائی تھی مگر پارلیمانی سیاست میں تاحال یہ خاطر خواہ جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

XS
SM
MD
LG