رسائی کے لنکس

چار نکاتی امن ایجنڈا ہی کشیدگی میں کمی کا واحد راستہ ہے: وزیراعظم


پاکستانی وزیراعظم نواز شریف (فائل فوٹو)

پاکستانی وزیراعظم نواز شریف (فائل فوٹو)

پاکستانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کو متوازن سوچ رکھنی چاہیے اور جتنا جلدی ہو مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا بہتر ہوگا۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ امن کے لیے ان کی طرف سے پیش کردہ چار نکاتی ایجنڈا ہی تعلقات میں پیش رفت کا واحد راستہ ہے۔

رواں ہفتے وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں یہ چار نکات پیش کیے تھے جن میں کشمیر اور سیاچن سے فوجوں کی غیر مشروط واپسی، فائربندی کی پابندی اور طاقت استعمال کرنے کی دھمکی نہ دینے کے علاوہ مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق حل کرنے کا کہا گیا تھا۔

بھارت نے ان کی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ امن کے لیے صرف یک نکاتی ایجنڈا ہی کافی ہے اور وہ اس کے بقول یہ کہ پاکستان دہشت گردوں کی حمایت چھوڑ دے۔

ہفتہ کو لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مسائل کو حل کرنے کے لیے اصل راستہ مذاکرات ہی ہیں اور الزام تراشیوں سے معاملات کو مزید الجھایا نہیں جا سکتا۔

" دوںوں ملکوں کو متوازن سوچ رکھنی چاہیے 67 سالوں میں ہم (پاکستان اور بھارت) جس راستے پر چل رہے ہیں اس نے ہمیں کیا دیا ہے۔۔۔ اس (چار نکاتی ایجنڈے) کے علاوہ کوئی چارہ نہیں اس پر آنا ہی پڑے گا۔ جتنی جلدی اس راستے پر آیا جائے بہتر ہے۔"

دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتیں ایک دوسرے پر دہشت گردوں کی حمایت کا الزام عائد کرتی آرہی ہیں۔

پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس کے ہاں خصوصاً جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں بھارت کی خفیہ ایجنسی "را" بدامنی اور دہشت گردی میں ملوث ہے اور اس بارے میں شواہد اقوام متحدہ کے عہدیداروں کو پیش کر دیے گئے ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کے پاس جو شواہد ہیں وہ پیش کیے گئے ہیں جس کے اثرات ان کے بقول پاکستان کے موقف کی حمایت میں ضرور مرتب ہوں گے۔

"ہمارے پاس شواہد ہیں تو ہم نے ان (اقوام متحدہ) سے اس کا تبادلہ کیا اور یہ تبادلہ کیا جانا چاہیے، یہ سلسلہ رکنا چاہیے، درپردہ جنگ کا بھی سلسلہ رکنا چاہیے۔ ان دستاویزات کا اثر ضرور پڑے گا۔"

بھارت ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے ہاں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں پر پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتا ہے۔

دنوں ملکوں کے درمیان حالیہ مہینوں میں ورکنگ باؤنڈری اور متنازع علاقے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر فائرنگ و گولہ باری کا تواتر سے تبادلہ ہوتا رہا ہے جس میں دونوں جانب جانی نقصان بھی ہو چکا ہے۔

ان واقعات کی بنا پر پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ دیکھا جا رہا ہے جسے امریکہ سمیت عالمی برادری خطے میں امن کے لیے مضر قرار دیتی ہے۔

امریکہ اس بات پر زور دے چکا ہے کہ دونوں ملکوں کو تناؤ کم کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

XS
SM
MD
LG