رسائی کے لنکس

سوشل میڈیا پر متحرک کارکنوں کی گمشدگیاں باعث تشویش


فائل فوٹو

فرحان حسین نے کہا کہ لوگوں کے لیے انٹرنیٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کب اور کتنا خطرناک بن سکتا ہے اس کا اندازہ لگانا اب مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق اور انٹرنیٹ صارفین کے حقوق سے متعلق سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ملک میں بائیں بازو کے خیالات کے حامی چار مختلف لوگوں کی اچانک گمشدگی باعث تشویش ہے اور یہ انسانی و بنیادی شہری حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو درپیش سنگین حالات کی نشاندہی کرتی ہے۔

ان گمشدگیوں کے بارے میں خبریں ان افراد کے رشتے داروں کی طرف سے سرگرم کارکنوں کو فراہم کی گئی معلومات کی بنیاد پر سامنے آئیں۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق عاصم سعید اور وقاص گورایہ چار جنوری جب کہ سلمان حیدر چھ جنوری اور احمد رضا نصیر سات جنوری کو لاپتا ہوئے۔

اسلام آباد سے لاپتا ہونے والے یونیورسٹی کے استاد اور ناقد سلمان حیدر کی بازیابی کے لیے وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان متعلقہ حکام کو کام تیز کرنے کی ہدایت کر چکے ہیں جب کہ دیگر کے بارے میں تاحال سرکاری طور پر کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

بتایا جاتا ہے کہ یہ چاروں افراد سوشل میڈیا پر سماجی عدم مساوات اور امتیازات سے متعلق مختلف معاملات پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

تاحال اس بارے میں بھی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں مل سکی ہے کہ ان گمشدگیوں کے پیچھے کون ہے۔

گمشدگیوں کے ان تازہ واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انٹرنیٹ صارفین کے حقوق سے متعلق کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم "بائٹس فار آل" سے وابستہ ایک کارکن فرحان حسین نے کہا کہ لوگوں کے لیے انٹرنیٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کب اور کتنا خطرناک بن سکتا ہے اس کا اندازہ لگانا اب مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

"سب سے بڑا معاملہ یہ ہے کہ لوگ آن لائن اپنی رائے کا اظہار کرتے آ رہے ہیں اور اب یہ پلیٹ فارم بھی اتنا خطرناک ہو گیا اور محدود ہو گیا ہے کہ لوگوں کو اپنی سلامتی کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہے کہ (ان کے ساتھ) کیا ہو جائے۔۔۔آن لائن سرگرمیوں کی وجہ سے لوگوں کو اس قدر ہراساں کیا گیا، دباؤ ڈالا گیا مجبور کیا گیا کہ انھوں نے یہ جگہ ہی چھوڑ دی۔"

انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن جبران ناصر کا کہنا ہے کہ لوگوں کا اس طرح سے لاپتا ہو جانا پریشان کن بات ہے لیکن اُن کے بقول یہ معاملات اسی صورت میں حل ہو سکتے ہیں جب معاشرہ اس کے بارے میں بھرپور طریقے سے آواز بلند کرے۔

"ایسے لوگ جو سوشل میڈیا پر اپنے اکاؤنٹ سے یا پیجز بنا کر رائے کا اظہار کرتے تھے جو مرکزی رائے سے مختلف ہو یہ لوگ آہستہ آہستہ الگ الگ جگہوں سے غائب ہو گئے ہیں، کس نے اٹھایا ہے ہمیں نہیں پتا۔۔۔۔جو کہ پریشانی کی بات ہے اور ہونی بھی چاہیے لیکن یہ معاملہ اسی صورت حل ہو گا اگر پاکستان کی سول سوسائٹی بغیر تفریق کے ہر اس انسان کے لیے بولے جو لاپتا ہو جائے۔"

بائٹس فار آل نے پیر کو اپنی ایک تازہ مطالعاتی رپورٹ بھی جاری کی جس میں انٹرنیٹ صارفین کو درپیش خطرات کا تذکرہ کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس ضمن میں لوگوں کو محفوظ ماحول کی فراہمی کو یقینی بنائے۔

حکومت کا یہ موقف رہا ہے کہ اس نے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے استعمال سے لوگوں کے حقوق کے استحصال اور جرائم کو روکنے کے لیے قانون بنایا ہے جس پر موثر طریقے سے عملدرآمد بھی کیا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG