رسائی کے لنکس

فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے چار مجرموں کو پھانسی


فائل فوٹو

پاکستان میں فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے مزید چار عسکریت پسندوں کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

فوج کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ان دہشت گردوں میں برکت علی، محمد عادل، اسحٰق اور لطیف الرحمٰن شامل تھے جنہیں بدھ کو علی الصبح راولپنڈی کی جیل میں پھانسی دی گئی۔

بیان میں بتایا گیا کہ یہ عسکریت پسند عام شہریوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں سمیت متعدد تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھے اور مجسٹریٹ اور مقدمات کی سماعت کرنے والی عدالت کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کر چکے تھے۔

بیان کے مطابق برکت علی عام شہریوں کی ہلاکت میں ملوث تھا اور اس کے قبضے سے آتشیں اسلحہ اور بارودی مواد برآمد ہوا تھا۔

محمد عادل فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کے اغوا اور انھیں قتل کرنے کے علاوہ پولیس اسٹیشن تباہ کرنے میں ملوث تھا جب کہ اسحٰق کو مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کے الزام میں سزا سنائی گئی۔

لطیف الرحمٰن قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے اغوا اور قتل سمیت مسلح افواج پر حملوں میں ملوث جن میں سکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے۔

گزشتہ ہفتے بھی فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے چار خطرناک دہشت گردوں کو پھانسی دی گئی تھی۔

دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کرنے کے لیے فوجی عدالتیں جنوری 2015ء میں قائم کی گئی تھیں جن کی میعاد میں رواں سال مارچ میں مزید دو سال کی توسیع کی گئی تھی۔

ان عدالتوں میں مقدمات کی سماعت سے متعلق شفافیت پر وکلا تنظیموں کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیمیں تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔

لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ ان عدالتوں میں نہ صرف ملزمان کو اپنی صفائی کا پورا موقع دیا جاتا ہے بلکہ وہ اپنی سزاؤں کے خلاف اعلیٰ عدلیہ میں اپیل بھی دائر کر سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG