رسائی کے لنکس

گوادر بندرگاہ، معاہدہ منسوخ کیا جائے


گوادر بندرگاہ، معاہدہ منسوخ کیا جائے

گوادر بندرگاہ، معاہدہ منسوخ کیا جائے

سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں کیے گئے معاہدے کے تحت گوادر بندرگاہ کا انتظام سنگاپور کی کمپنی کو دیا گیا تھا جس کا مقصد اس بندرہ گاہ کے ذریعے سمندر کے راستے تجارت کو فروغ دینا تھا۔ لیکن بلوچستان کی موجودہ حکومت معاہدے کے حوالے سے تحفظات رکھتی ہے چنانچہ اُس نے اس کی منسوخی کا مطالبہ کیا ہے۔

بلوچستان کی حکومت بھی عدالت عظمیٰ میں دائر اُن درخواستوں کا حصہ بن گئی ہے جن میں گوادر بندرگاہ کا انتظام چلانے والی غیر ملکی کمپنی کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی منسوخی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے بد ھ کو اس مقدمے کی سماعت کی اور اس موقع پر بلوچستان حکومت کی طرف سے درخواست کی گئی کہ وہ اس مقدمے میں فریق بننا چاہتی ہے جسے منظور کر لیا گیا ۔

درخواست گزار کے ایک وکیل بیرسٹر ظفر اللہ خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 2007ء میں وفاقی اور بلوچستان کی صوبائی حکومت نے سنگاپور کی ایک کمپنی (پورٹ آف سنگاپور اتھارٹی) کو 40سال کے لیے گوادر کی بندرگاہ لیز پر دی تھی۔انھوں نے بتایا کہ معاہدے کے مطابق غیر ملکی کمپنی کوگوادر کی بندرگاہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے سالانہ گیارہ کروڑ ڈالر خرچ کرنے تھے لیکن اُن کے بقول ایسا نہیں کیا گیا ہے۔

سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں کیے گئے معاہدے کے تحت گوادر بندرگاہ کا انتظام سنگاپور کی کمپنی کو دیا گیا تھا جس کا مقصد اس بندرہ گاہ کے ذریعے سمندر کے راستے تجارت کو فروغ دینا تھا۔ لیکن بلوچستان کی موجودہ حکومت معاہدے کے حوالے سے تحفظات رکھتی ہے چنانچہ اُس نے اس کی منسوخی کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم ریئسانی کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت نہ تو بندرگاہ کو وسعت دی گئی اور نہ ہی اس کے ذریعے سمندری تجارت کو فروغ ملا۔ معاہدے کے تحت اس بندرگاہ سے ہونے والی کل آمد ن کا محض نو فیصد ہی پاکستان کو ملنا تھا اس لیے بھی اب اس معاہدے کی مخالفت کی جارہی ہے۔

پاکستان میں گوادر کے علاوہ دو اور بندرگاہیں بھی ہیں جو کراچی میں واقع ہیں۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کوشاں ہے کہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک سمندری تجارت کے لیے گوادر بندرگاہ کو استعمال کریں اور اگر ایسا ہوتاہے تو یہ نا صرف بلوچستان بلکہ ملک کے دوسرے حصوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کی بحالی کا باعث بنے گا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ بحرہند تک رسائی کے لیے چین کی بھی کوشش ہے کہ اُسے گوادر بندرگاہ کا انتظامی کنٹرول دیا جائے لیکن پاکستانی حکام اس کی تردید کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG