رسائی کے لنکس

گوادر پورٹ مقامی افراد کے لیے روزگار کا اہم ذریعہ


گوادر پورٹ (فائل فوٹو)

گوادر پورٹ (فائل فوٹو)

پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین دوستین جمالدینی نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ بندرگاہ اور اس سے متصل صنعتی زون کے کلی طور پر مکمل ہونے سے گوادر میں بے روزگاری کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں واقع گوادر کی بند گارہ پر جزوی طور پر تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں جب کہ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں مکمل طور پر کام شروع ہونے کے بعد علاقے کے لوگوں کو مزید روزگار ملے گا جس سے یہاں کے مجموعی حالات بشمول امن و امان کی بحالی میں بھی مدد ملے گی۔

گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین دوستین جمالدینی نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ بندرگاہ اور اس سے متصل صنعتی زون کے کلی طور پر مکمل ہونے سے گوادر میں بے روزگاری کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔

’’ابھی میرے پاس یہاں پانچ سو ملازمین کام کر رہے ہیں جن میں 95 فیصد یہاں کے مقامی لوگ ہیں اور جب کوئی جہاز یہاں آتا ہے تو اس سے بھی بلواسطہ طور پر سینکڑوں لوگوں کو روزگار ملتا ہے تو اس لحاظ سے گوادر پورٹ یہاں بے روزگاری کے مسئلے کو بھی بتدریج حل کرنے میں مددگار ہے۔‘‘

گوادر پورٹ کا انتظام چین کی کمپنی کے پاس ہے جب کہ اس سے متصل صنعتی زون میں بھی زیادہ تر چینی کمپنیاں ہی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

بلوچستان میں اکثر حلقے گوادر پورٹ کی یہ کہہ کر مخالفت کرتے رہے ہیں کہ اس کا فائدہ بلوچستان کی بجائے وفاق کو زیادہ ہو گا جب کہ مقامی لوگ اس سے خاطر خواہ استفادہ نہیں کر سکیں گے۔

قدرتی وسائل سے مالامال لیکن پسماندہ ترین صوبہ بلوچستان میں حالیہ برسوں میں امن و امان کی صورتحال بھی بتدریج خراب ہوتی آئی ہے لیکن دوستین جمالدینی کے بقول گوادر دیگر علاقوں کی نسبت ایک پرامن شہر ہے اور بندرگاہ کی وجہ سے علاقے میں ہونے والی ترقی سے اس میں مزید بہتری آئے گی۔

’’بلوچستان میں جو سکیورٹی کی صورتحال ہے اس کی وجوہات میں سیاسی و معاشی محرومی کا عنصر ملتا ہے، گوادر جیسے منصوبے جب شروع ہوتے ہیں تو اس کے اثرات بھی نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں گوادر پورٹ خود ایک بہت مثبت عنصر ہو گا بلوچستان میں سکیورٹی کے معاملات کو بہتر کرنے کے لیے۔ ۔ ۔ جب ترقی ہوگی تو اس سے بہت سارے معاملات حل ہو جائیں گے۔‘‘

گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ چین کی کمپنیاں یہاں مزید 77 کروڑ ڈالرز خرچ کریں گی جس سے بندگارہ کے علاوہ ساحلی پٹی پر کنٹینر ٹرمینل بھی بنیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں قائم ہونے والے صنعتی زون میں کارسازی، چمڑے کی مصنوعات، فوڈ پراسسنگ پلانٹس اور تعمیرات سے متعلق کارخانے بھی قائم ہونے جا رہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG