رسائی کے لنکس

گوادر کی مقامی آبادی کے تحفظ کے لیے قانون سازی پر غور


فائل فوٹو

فائل فوٹو

واضح رہے کہ اقتصادی راہداری کے حوالے سے گوادر کے مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ یہاں باہر سے آنے والے لوگوں کی آبادی زیادہ ہونے سے مقامی آبادی اقلیت میں بدل جائے گی۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کی تعمیر اور گوادر بندرگاہ فعال ہونے سے گوادر کی مقامی آبادی کے اقلیت میں بدلنے کے خدشات کا قانون سازی کے ذریعے تحفظ کیا جائے گا۔

حکومت بلوچستان ایک ایسے مسودہ قانون کی تیاری پر غور کر رہی ہے جس کے تحت دوسرے علاقوں سے گوادر آنے والے افراد کا نام ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اقتصادی راہداری کے حوالے سے گوادر کے مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ یہاں باہر سے آنے والے لوگوں کی آبادی زیادہ ہونے سے مقامی آبادی اقلیت میں بدل جائے گی۔

ماہر قانون سابق سینیٹر کامران مرتضیٰ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ صوبائی اسمبلی اس حوالے سے صرف ایک بل پاس کر سکتی ہے مگر آئین میں ترمیم کی ضرورت ہے اور اصل قانون سازی وفاقی حکومت ہی کر سکتی ہے۔

کامران مرتضیٰ کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی اسی طرح کا قانون موجود ہے، وہاں بھی باہر سے آنے والا کوئی شخص ووٹ نہیں ڈال سکتا۔

پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت گوادر سے کاشغر تک تقریباً 3,000 کلومیٹر طویل سڑک بنانے کا منصوبہ ہے جس کو مکمل ہونے میں کئی سال لگیں گے۔

گوادر بلوچستان کا اس وقت ایک چھوٹا سا ساحلی شہر ہے جس کی آبادی تقریباً ایک لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔

XS
SM
MD
LG