رسائی کے لنکس

سیاچن گلیشیئر کے گیاری سیکٹر میں پاکستان کی فوج کی امدادی ٹیم نے سات ہفتوں کی مسلسل کوششوں کے بعد برفانی تودے تلے دبے فوجیوں میں سے ایک کی لاش نکال لی ہے۔

سکس ناردرن لائٹ انفنٹری کے بٹالین ہیڈکوارٹرز پر 7 اپریل کو طلوع آفتاب سے قبل ضخیم تودہ گرنے سے اس اہم تنصیب پر تعینات 139 اہلکار برف اور پتھروں کی 200 فٹ تک بلند چٹان تلے دب گئے تھے۔

سرکاری ’ریڈیو پاکستان‘ کے مطابق یہ پہلی لاش اُس مقام سے ملی ہے جہاں بٹالین ہیڈکوارٹرز کی ایک چوکی قائم تھی۔

’’اس مقام کے قریب سے مزید لاشیں ملنے کی اُمید کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے۔‘‘

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کی جانب سے اس بارے میں فوری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

مگر مقامی ٹیلی ویژن چینلز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ لاش کی شناخت سپاہی محمد حسین کے نام سے کی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق لاش ہفتہ کی شام ملی جسے فوری طور پر گیاری سیکٹر کے قریب گوما اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

آئی ایس پی آر نے گیاری میں جاری امدادی آپریشن سے متعلق آخری بیان 22 مئی کو جاری کیا تھا، جس میں بتایا گیا کہ متاثرہ مقام پر بننے والی جھیل سے پانی کے رساؤ اور ملبے میں ممکنہ شگافوں کی وجہ سے خطرات کے باوجود تلاش کا کام مستعدی سے جاری ہے۔

اس سے قبل کھدائی کے عمل کے دوران کارکنوں کو فوجیوں کا زیر استعمال کچھ سامان بھی ملا تھا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG