رسائی کے لنکس

جنوبی ایشیا میں عورتوں پر تشدد کی وجوہات ’مشترکہ کلچر‘

  • حسن سید

تورین افروز اور احمد چنائے

تورین افروز اور احمد چنائے

جنوبی ایشیائی ملکوں کے ماہرین، دانشوروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ خطے میں صدیوں سے رائج رسم و رواج عورتوں پر تشدد کی سب سے بنیادی وجہ ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ اس صورت حال میں بہتری نہیں بلکہ ابتری دکھائی دے رہی ہے۔

اس ہفتے اسلام آباد میں غیر سرکاری تنظیم ’’روزن‘‘ کے زیر اہتمام منعقدہ ایک دو روزہ کانفرنس میں پاکستان کے علاوہ نیپال، سری لنکا اور بنگلہ دیش سے مندوبین نے شرکت کی اور اس امر پر زور دیا کہ تمام علاقائی ملکوں کو مل کر جاگیر دارانہ ، قبائلی اور پنچایتی نظام کے خلاف آواز بلند کرنا ہوگی جو ملکی قوانین کوتسلیم نہیں کرتا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عمل داری سے متصادم ہے۔

نیپال سے آئی ہوئی انسٹیٹوٹ آف ہیومن رائٹس کمیٹی کی بانی چیئر پرسن شوبنا گوتم نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں کہا کہ ان کے ملک میں 76 فیصد خواتین کو مختلف طرح کے تشدد کا سامنا ہے اس کی ایک شکل جہیز نہ لانے پر بہوؤں کو سسرال کی طرف سے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جانا بھی شامل ہے۔

انھوں نہ کہا کہ جنوبی ایشیا کے دوسرے ملکوں کی طرح نیپال میں بھی اکثر خواتین کو انصاف کے حصول میں دشواریوں کا سامنا ہے جس کی وجہ سماجی اور مذہبی روایات کی آڑ میں عائد پابندیاں ہیں۔

شوبنا گوتم کا کہنا تھا کہ صورت حال میں تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ علاقائی ممالک جن کی ثقافت میں بہت حد تک مماثلت پائی جاتی ہے ایسے تمام قوانین کا خاتمہ یا ان میں تبدیلی لائیں جو خواتین کے جائز حقوق کو سلب کرنے کا باعث بن رہے ہیں اور اس کے ساتھ فیصلہ سازی کے عمل میں بھی عورتوں کو شمولیت کا پورا موقع دیں۔

پروفیسر تورین افروز بنگلہ دیش کی بے آراے سی یونیورسٹی سے وابستہ ہیں جن کا کہنا ہے کہ تقسیم ہند کے بعد سے اب تک جنوبی ایشیائی ملکوں پر برطانوی دور حکومت کا اثر دکھائی دیتا ہے اور ’’ایک دوسرے کو زور زبردستی سے قابو کرنے کا رجحان آج بھی ہماری ثقافت کا حصّہ ہے‘‘۔

جنوبی ایشیا میں عورتوں پر تشدد کی وجوہات ’مشترکہ کلچر‘

جنوبی ایشیا میں عورتوں پر تشدد کی وجوہات ’مشترکہ کلچر‘

انہوں نے کہا ہے خواتین پر تشدد کے واقعات مغرب سمیت دنیا بھر میں رونما ہوتے ہیں لیکن ہمارے یہاں روایتی وجوہ کی بنا پر اس کا تناسب زیادہ ہے جس کو کم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جنوبی ایشیا کے ملک آپس میں زیادہ سے زیادہ اشتراک اور روابط کو فروغ دیں اور تجربات کا تبادلہ کریں۔

روزن کے منیجنگ ڈائریکٹر بابر بشیر بھی اس رائے سے متفق ہیں کہ جنوبی ایشیا میں برطانوی راج نے سماجی روایت میں جبر اور دباؤ کے ایسے رجحانات چھوڑے ہیں کہ سب ہی ملکوں میں طاقت ور اپنے سے کمزور کو دبانا چاہتا ہے۔

’’ تشدد کی اشکال یا تناسب میں فرق ہوسکتا ہے، ہمارے یہاں اگر غیرت کے نام پر قتل زیادہ ہوتے ہیں تو دوسرے ملک میں تیزاب پھینکنے کا واقعات زیادہ ہوں گے لیکن یہ مسئلہ بہرحال پورے خطے میں موجود ہے‘‘۔

احمد چنائے کراچی کی پولیس شہری رابطہ کمیٹی کے سربراہ ہیں جن کا کہنا ہے کہ تشدد خاص طور پر عورتوں پر تشدد کے واقعات کو روکنے کے لیے سب سے ضروری ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعطاعت بڑھائی جائے اور انہیں سیاسی اثر رسوخ سے پوری طرح آزاد کیا جائے۔

’’کراچی شہر میں اڑھائی کروڑ کی آبادی ہے جس کی حفاظت کے لیے 30 ہزار کی فورس میں سے صرف سات ہزار امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تعینات ہیں جبکہ باقی دیگر کاموں پر معمور ہیں‘‘

طاہرہ عبداللہ پاکستان میں انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ہیں جن کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مستحکم بنانے کے لیے صرف بہتر مراعات دینا ہے کافی نہیں بلکہ بنیادی اصلاحات کے تحت نقائص کو دور کر کے، اہکاروں کی بہتر تربیت سے ہے مستعدی کے ساتھ عورتوں پر تشدد کی روک تھام ممکن ہے۔

XS
SM
MD
LG