رسائی کے لنکس

29 نومبر کو ریٹائر ہو جاؤں گا:جنرل کیانی


جنرل اشفاق پرویز کیانی

جنرل اشفاق پرویز کیانی

پاکستانی فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سیاسی قیادت، عوام اور فوج نے ان پر اعتماد کیا جس پر وہ ان کے ممنون ہیں۔ ان کے بقول ادارے اور روایات افراد سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنے عہدے کی معیاد مکمل ہونے پر پیشہ وارانہ ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کا اعلان کیا ہے۔

اتوار کو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں یہ اعلان انھوں نے ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی ان خبروں کے ردعمل کے طور پر کیا جس میں جنرل کیانی کی بطور فوج کے سربراہ مدت ملازمت میں توسیع یا زیادہ اختیارات کے ساتھ کسی دوسرے اہم عہدے پر تقرری کا ذکر کیا جا رہا تھا۔

پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں ایک بار توسیع کر چکی تھی جو 29 نومبر کو مکمل ہورہی ہے اور جنرل کیانی کے بقول یہی ان کے موجودہ عہدے پر کام کا آخری دن ہوگا۔

بیان میں فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سیاسی قیادت، عوام اور فوج نے ان پر اعتماد کیا جس پر وہ ان کے ممنون ہیں۔ ان کے بقول ادارے اور روایات افراد سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔

جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ انھوں نے دنیا کی بہترین فوج کی چھ سال تک قیادت کی جس پر انھیں فخر ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اور لوگ پاکستان کو صحیح معنوں میں جمہوری، خوشحال اور پرامن ملک بنانے کے مشن کو آگے لے کر چلیں۔

جنرل اشفاق پرویز کیانی 29 نومبر 2007ء کو جنرل پرویز مشرف کے بعد پاکستانی فوج کے سربراہ مقرر ہوئے تھے۔

بیان کے مطابق جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ اب جب کہ ان کے عہدے کی معیاد پوری ہو رہی ہے ملک میں جمہوری عمل جڑ پکڑ چکا ہے۔ ان کے بقول پاکستان کی فوج پوری طرح سے جمہوریت کے استحکام کی حامی ہے۔

پاکستان کی سڑسٹھ سالہ تاریخ میں ملک میں زیادہ تر فوجی حکمران ہی اقتدار میں رہے جس کے باعث فوج پر جمہوریت کو کمزور کرنے کے الزامات لگتے رہے۔

لیکن جہاں ملکی تاریخ میں پہلی بار جمہوری منتخب حکومت اپنی آئنی مدت پوری کرکے دوسری منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کر چکی ہے وہیں فوج کے سربراہ کی طرف سے اس بیان کو مبصرین ملک میں جمہوری عمل کی بقا اور مضبوطی کے لیے نہایت خوشگوار قرار دے رہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG