رسائی کے لنکس

پیمرا کا اپنے ہی ممبران کے فیصلے سے اظہار لاتعلقی


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

یہ فیصلہ پیمرا کے پانچ پرائیویٹ ممبران کے اجلاس میں کیا گیا، تاہم اس اجلاس میں سرکاری ممبران شریک نہیں تھے۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ’پیمرا‘ نے اپنے پانچ پرائیویٹ ممبران کی طرف سے جیو نیٹ ورک کے تین چینلز کے لائسنس معطل کرنے اُن کے دفاتر کو سیل کرنے کے فیصلے اظہار لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔

پیمرا کے ایک بیان میں کہا گیا کہ نو مئی کے اجلاس میں اتھارٹی نے جیو سے متعلق شکایات پر یہ معاملہ وزارت قانون کو بجھواتے ہوئے وزارت سے اس بارے میں رائے لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس سے قبل منگل کی شب پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ’پیمرا‘ کے پانچ پرائیویٹ ممبران نے جیو نیٹ ورک کے ’تین چینلز‘ کے لائسنس معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پیمرا کے اس اجلاس میں سرکاری ممبران نے شرکت نہیں کی جس سے یہ اجلاس متنازع ہو گیا۔

پیمرا کے پرائیویٹ ممبر میاں شمس الرحمٰن نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ ’’جیو نیوز، جیو تیز اور جیو انٹرٹینمنٹ کے لائسنس فوری طور پر معطل کیے جاتے ہیں اور ان کے دفاتر سیل کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ اتھارٹی کا اجلاس 28 مئی کو بلایا گیا ہے جس میں اس بارے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

جیو کے ایک سینیئر صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بعد چینل نے اپنی نشریات میں کئی گھنٹوں تک اس کا الزام انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ پر عائد کیا تھا۔

جس پر وزارت دفاع کی طرف سے پیمرا میں درخواست دائر کی گئی تھی کہ ملک کے نجی ٹی وی چینل 'جیو نیوز' کی نشریات معطل کر دی جائیں۔

وزارت دفاع کی درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ریاست کے ادارے کو بغیر شواہد کے نشانہ بنایا گیا۔

گزشتہ ہفتے جیو کے ایک مارننگ شو میں دکھائے جانے والے متنازع مواد کے بعد ملک میں مذہبی جماعتوں، وکلا و مختلف سماجی حلقوں کی طرف سے چینل کو توہین مذہب کا مرتکب قرار دیتے ہوئے اسے بند کرنے کا مطالبہ سامنے آیا تھا۔

اس معاملے پر پاکستان میں صحافتی برادری میں اختلافات بھی واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

جیو کے مالک میر شکیل الرحمٰن اور مارننگ شو کی میزبان شائستہ لودھی کے خلاف مختلف پولیس اسٹیشنز میں توہین مذہب اور مقدس شخصیات کی توہین کے قوانین کے تحت مقدمات بھی درج ہو چکے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو غلط رنگ دینے کی بجائے ایسے امور کا جائزہ لے کر انصاف دینے والے اداروں کو اپنا کام کرنے دیا جانا چاہیئے۔

جیو کی انتظامیہ نے پہلے ہی مارننگ شو کے متنازع پروگرام پر معذرت کرتے ہوئے مذکورہ پروگرام کو معطل کرتے ہوئے اپنے ادارے ہی میں اس معاملے کی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔
XS
SM
MD
LG